حیدرآباد

بجلی کی خریداری کیلئے چھتیس گڑھ سے معاہدہ کی جانچ کروائی جائے گی:چیف منسٹر ریونت ریڈی

ریونت ریڈی نے اسمبلی میں اس مسئلہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سابق وزیر جگدیش ریڈی کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔محکمہ بجلی میں اسکامس کی تحقیقات کروائی جائے گی۔

حیدرآباد:تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیشرو بی آر ایس حکومت کے دورمیں بجلی کی خریداری کیلئے چھتیس گڑھ سے معاہدہ،بھدرادری کوتہ گوڑم میں 1080میگاواٹ کے پراجکٹ کے معاہدہ اوریادادری تھرمل پراجکٹ کے سلسلہ میں بی ایچ ای ایل سے کئے گئے معاہدہ کی عدالتی جانچ کروائیں گے۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں Amazon کی "زیرو ریفرل فیس” پالیسی نے بیچنے والوں کے دل جیت لیے
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
پرگتی بھون میں عثمان الھاجری کی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ سے ملاقات
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

انہوں نے اسمبلی میں اس مسئلہ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سابق وزیر جگدیش ریڈی کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔محکمہ بجلی میں اسکامس کی تحقیقات کروائی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پیشروحکومت نے سرکاری ملازم کو ہراساں کیا جس نے کہا تھا کہ چھتیس گڑھ سے کیاگیا معاہدہ غلط تھا۔

 انہوں نے کہا کہ اس عہدیدار کا تبادلہ دور دراز کے علاقہ میں کردیاگیا اور ان کے عہدہ کو کم کردیاگیا۔ ریونت نے تنقید کی کہ اگر انہوں نے چھتیس گڑھ معاہدے کے بارے میں سوال کیا تو انہیں اسمبلی میں مارشل کے ذریعہ باہر کردیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام حقائق سامنے لانے کی ضرورت ہے۔