عدالت کی کارروائی کی فلم بندی، ایک خاتون گرفتار

پولیس نے ایک 30سالہ خاتون کو گرفتار کرلیا ہے جس کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ اس خاتون کے ممنوعہ پاپلر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے روابط ہیں۔

اندور: پولیس نے ایک 30سالہ خاتون کو گرفتار کرلیا ہے جس کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ اس خاتون کے ممنوعہ پاپلر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے روابط ہیں۔سرکاری عہدیدار نے آج یہاں بات بتائی اور کہا کہ مدھیہ پردیش کے ضلع اندور کی عدالت میں سماعت کے دوران کارروائی کی فلم بندی پر اس خاتون کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

خاتون جس کی شناخت سونو منصوری کی حیثیت سے کی گئی ہے۔بعد میں پولیس کو بتایا کہ ایک ایڈوکیٹ نے ان سے کہا تھا کہ وہ ویڈیو بنائیں تاکہ اسلامک آؤٹ فٹ پی ایف آئی کو روانہ کیاجاسکے۔

اس مقصد کیلئے انہیں تین لاکھ روپئے دئے گئے۔یہ بات ایڈیشنل کمشنر پولیس راجیش رگھوونشی نے خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کے نمائندے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتائی۔بجرنگ دل قائد تنو شرما سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہفتہ کو ان کے ایڈوکیٹس امیت پانڈے اور سنیل وشواکرما نے دیکھا کہ ایک خاتون عدالت کے روم نمبر 42 میں عدالتی کارروائی کی ویڈیو تیار کر رہی ہے۔

ایڈیشنل کمشنر نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اندور ڈسٹرکٹ کورٹ میں ویڈیو کی خاتون کی جانب شوٹنگ کئے جانے کو ایڈوکیٹس امیت پانڈے اور سنیل وشواکرما نے محسوس کیا۔ایڈوکیٹس نے شبہ کرکے خاتون وکلاء کی مدد سے خاتون کو پکڑ لیا۔جس کے بعد ایم جی روڈ پولیس کو چوکس کردیا گیا۔جس نے ہفتہ کی شام کو خاتون کو تحویل میں لے لیا اور رات میں رسمی طورپر گرفتاری عمل میں آئی۔

سونو منصوری جوکہ اندور کی ساکن ہیں‘ ادعا کیا ہے کہ سینئر ایڈوکیٹ نورجہاں خان نے انہیں یہ کام دیا تھا کہ وہ ویڈیو تیار کرے تاکہ پاپلرفرنٹ آف انڈیاکو روانہ کیا جاسکے۔سرکاری عہدیدار نے یہ بات بتائی۔خاتون نے پولیس کو یہ بھی بتایا ہے کہ اس کام کیلئے اس کو3لاکھ روپئے دئے گئے تھے۔

پولیس عہدیدار نے مزید بتایا کہ رقم برآمد کرلی گئی ہے۔مزید تحقیقات جاری ہیں۔ سونو منصوری سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے تاکہ پاپلر فرنٹ آف انڈیا سے اس کے روابط کے تعلق سے مزید معلومات حاصل کئے جاسکیں۔خاتون کو اتوار کی دوپہر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔یہ بات ایڈیشنل کمشنر پولیس راجیش رگھوونشی نے بتائی۔انہوں نے کہا کہ اگر واضح ثبوت مل جائے تو ایڈوکیٹ نورجہاں خان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے ستمبر2022کو پاپلر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)پر امتناع عائد کردیا۔

انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پی ایف آئی اور اس کی معاون تنظیموں پر 5سال کیلئے امتناع عائد کیا گیا ہے۔پی ایف آئی پر عالمی دہشت گرد گروپس جیسے آئی ایس آئی ایس سے روابط کے الزامات عائد ہیں۔ تنظیم پر ملک میں فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کا بھی الزام عائد ہے۔

امتناع سے قبل قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے)، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے علاوہ مختلف اسٹیٹ پولیس فورسیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر پی ایف آئی کے خلاف کارروائی کی گئی اور دھاوے کئے گئے۔کئی قائدین اور سرگرم کارکنوں کو مختلف ریاستوں سے گرفتار کرلیا گیا۔جن پر ملک میں دہشت گرد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور مدد کرنے کے الزامات عائد کئے گئے۔