چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کوکٹ پلی میں اندراما ٹاورز کا رکھا سنگِ بنیاد، 480 خاندانوں کو ملے گا گھر
کوکٹ پلی میں 5 ایکڑ زمین پر چار ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے۔ ہر ٹاور میں 120 فلیٹس ہوں گے اور چاروں ٹاورز میں مجموعی طور پر 480 فلیٹس تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے پر تقریباً 43 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
حیدرآباد: شہر کے غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے تلنگانہ حکومت نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے جمعرات، 13 اگست کو کوکٹ پلی میں اندرامّا ایل آئی جی ٹاورز کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر وزیرِ ہاؤسنگ پونگولیٹی سرینواس ریڈی بھی موجود تھے۔
حکومت کے منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں حیدرآباد کے 16 اسمبلی حلقوں میں غریب خاندانوں کے لیے 7 ہزار 340 فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ ان مکانات کی تعمیر کے لیے تقریباً 90 ایکڑ سرکاری زمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کوکٹ پلی میں 5 ایکڑ زمین پر چار ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے۔ ہر ٹاور میں 120 فلیٹس ہوں گے اور چاروں ٹاورز میں مجموعی طور پر 480 فلیٹس تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے پر تقریباً 43 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
ہر فلیٹ میں ایک بیڈروم، ہال اور کچن ہوگا اور مکان کا رقبہ تقریباً 525 مربع فٹ ہوگا۔ حکومت کے مطابق مستحق افراد کو مکان کے ساتھ زمین میں بھی حصہ دیا جائے گا۔ ہر خاندان کے نام پر تقریباً 20 سے 25 مربع گز زمین کا حصہ درج کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں زمین کی قیمتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے غریب خاندانوں کے لیے اپنا گھر خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔ اسی لیے حکومت اہم علاقوں میں موجود سرکاری زمین پر بڑے ٹاورز تعمیر کرکے غریب خاندانوں کو شہر کے اندر ہی گھر فراہم کرنا چاہتی ہے۔
حکام کے مطابق بعض علاقوں میں مستحق خاندان کو ملنے والے زمین کے حصے کی قیمت 60 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک ہوسکتی ہے۔ یعنی مستحقین کو صرف گھر ہی نہیں بلکہ زمین میں بھی قیمتی حصہ ملے گا۔
دوسری جانب اندرِامّا مکانات کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 15 اگست مقرر کی گئی ہے۔ بدھ تک تقریباً 50 ہزار درخواستیں موصول ہوچکی تھیں۔ مکانات کی تعمیر کے لیے ہاؤسنگ بورڈ کی جانب سے ٹینڈر بھی طلب کیے جاچکے ہیں اور ٹینڈر جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 اگست مقرر کی گئی ہے۔
حکومت کے منصوبے کے مطابق ٹاورز کی تعمیر ستمبر میں شروع کی جائے گی اور انہیں اگست 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد مستحق خاندانوں کو نئے گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے حیدرآباد کے غریب خاندانوں کو شہر کے اہم علاقوں میں اپنے گھر کی سہولت فراہم ہوگی اور بڑھتی ہوئی زمین کی قیمتوں کے درمیان ان کے اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی۔