تلنگانہ

تلنگانہ میں سردی کی لہر میں روز بروز اضافہ

تلنگانہ میں سردی کی لہر میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ریاست کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت پہلے ہی گر چکا ہے۔ محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آئندہ دو سے تین دنوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں سردی کی لہر میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ریاست کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت پہلے ہی گر چکا ہے۔ محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آئندہ دو سے تین دنوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ

ابھی موسم سرما کا آغاز ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن درجہ حرارت میں تیزی سے آتی کمی نے عوام کو صبح اور شام کے وقت گھروں میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔


محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے کئی حصوں میں اقل ترین درجہ حرارت معمول سے 3 سے 4 ڈگری سیلسیس کم رہنے کا امکان ہے۔


شدید سردی اور گھنی کہر کے پیش نظر کئی اضلاع کے لئے اورنج اور ایلوالرٹ جاری کئے گئے ہیں۔ خاص طور پر شمالی، مغربی اور وسطی تلنگانہ کے اضلاع میں سرد ہوائیں چلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔


پٹن چیرو میں درجہ حرارت 6.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ عادل آباد میں 8.2، میدک میں 8.8، راجندر نگر میں 10.5، ہنمکنڈہ میں 11.5، نظام آباد میں 12.5 اور حیدرآباد میں 13.2 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت درج کیا گیا۔ نلگنڈہ، کھمم اور محبوب نگر جیسے اضلاع میں بھی درجہ حرارت 13 سے 15 ڈگری کے درمیان رہا۔


تیزی سے بڑھتی ہوئی سردی کے پیش نظر طبی ماہرین اور حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گرم کپڑوں کا استعمال کریں۔ موٹر سائیکل سواروں کو سر، کان اور ہاتھوں کو ڈھانپنے کے لئے ہیلمٹ، ٹوپی اور دستانے پہننے کی تاکید کی گئی ہے۔ کہرکی وجہ سے سڑکوں پر نمی اور پھسلن ہو سکتی ہے اسی لئے گاڑی چلانے والوں کو محتاط رہنے اور رفتار کم رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔