مہاراشٹرا

کانگریس لیڈر کی ناراضگی ختم، نسیم خان کی راہول گاندھی سے ملاقات

کانگریس کے قدآور لیڈر عارف نسیم خان سے کل پونا میں راہول گاندھی کی ملاقات ہوئی جسکے دروان انہوں نے تمام باتیں رکھی جسکے بعد کانگریس اعلی کمان نے مسلم نمائندگی کے معاملے میں ہوئی غلطیوں کا اعتراف کیا ۔

ممبئی: مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے دوران کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ دیے جانے سے مسلم سماج کی ناراضگی کا کانگریس کی اعلیٰ کمان نے نوٹس لیا ہے۔

متعلقہ خبریں
کانگریس ٹکٹ کے خواہشمندوں کا گاندھی بھون میں ہجوم۔ایک حلقہ سے کئی دعویدار
شادی کی پرائیوٹ تصویریں سوشل میڈیا پروائرل، شاہین شاہ آفریدی نے ظاہر کی ناراضگی
مسلمان اگر عزت کی زندگی چاہتے ہو تو پی ڈی ایم اتحاد کا ساتھ دیں: اویسی
ممبئی سمیت مہاراشٹر میں پانچویں اور آخری مرحلے کیلئے انتخابی مہم ختم
ٹیپوسلطان کے مجسمہ کو چپلوں کا ہار پہنانے کا واقعہ

ذرائع کے مطابق، کانگریس کے قدآور لیڈر عارف نسیم خان سے کل پونا میں راہول گاندھی کی ملاقات ہوئی جسکے دروان انہوں نے تمام باتیں رکھی جسکے بعد کانگریس اعلی کمان نے مسلم نمائندگی کے معاملے میں ہوئی غلطیوں کا اعتراف کیا ۔

ملاقات کے بعد راہول گاندھی نے عارف نسیم خان سے انتخابی مہم میں شامل ہونے اور کانگریس پارٹی کے امیدواروں کو منتخب کرنے کے لیے کام کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

نیز تازہ ترین اطلاع کے مطابق کانگریس کی جانب سے جاری کردہ تشہری مہم کے اسٹار پرچارکوں کی فہرست میں عارف نسیم خان کا نام دوبارہ شامل کر لیا گیا ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق، راہول گاندھی نے نہ صرف اس ناانصافی دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے بلکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ایسا کن حالات میں اور کیوں ہوا اس پر بھی کانگریس کی اعلیٰ قیادت غور کرے گی ۔

راہول گاندھی کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بعد نسیم خان نے پارٹی امیدواروں کے لیے انتخابی تشہیری مہم میں حصہ نہ لینے اور ریاستی کانگریس انتخابی مہم کمیٹی سے بھی استعفیٰ دینے کے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا ہے۔

راہول گاندھی ایک انتخابی جلسے سےخطاب کرنے پونا پہنچے تھے۔ اس موقع پر نسیم خان نے راہل گاندھی اور کانگریس اعلی کمان کے روبرو تمام باتیں رکھی اور بتایا کہ یہاں مسلم حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو نظر انداز کر رہی ہےجس سے ایک غلط پیغام عوام میں جا رہا ہے۔

 راہول گاندھی نے نسیم خان کی بات بغور سنی نیز کانگریس اعلی کمان نے اعتراف کیا اور یقین دلایا کہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔ راہل نے مزید کہا کی ہم نے اقلیتوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا ہے ان کے مفادات کے لئے ہی کام کیا ہے۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے خان سےدرخواست کی کہ وہ انتخامی مہم میں حصہ لیں کانگریس کو جتائیں۔

اس یقین دہانی کے بعد نسیم خان نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اور اپنی انتہائی جوشیلی تقریرکے ذریعے پارٹی اور عوام میں ایک نہا جذبہ پیدا کردیا۔

 اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ میری ناراضگی جائز تھی مجھے اپنی قوم کے لئے آواز اٹھانے کا حق ہے یہی کانگریس کی روایات بھی ہے لیکن یہ ناراضگی ہماری اپنی تھی جسے آج کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دور کر دیا۔

عیاں رہے کہ، کانگریس یا مہا وکاس اگھاڑی کی دوسری کسی حلیف جماعتوں میں سے کسی نےبھی مہاراشٹر کی 48 نشستوں میں سے کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ جس پر مہاراشڑ اور بطور خاص ممبئی اور دیگر بڑے شہروں اور مسلمانوں کی کثیر آبادی والے مسلم علاقوں میں اب یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کانگریس کو مسلم ووٹ چاہئیے، امیدوار کیوں نہیں؟۔

 اس سوال نے اس وقت اور شدت اختیار کر لی جب کانگریس پارٹی کی جانب سے شمالی ممبئی سنٹرل سیٹ سے ورشا گائیکواڈ کو امیدواری دی گئی۔ بتادیں کہ اس نشست سے ممبئی کانگریس کے سینئر لیڈر عارف نسیم خان کا نام کی چرچہ تھی اور امید کی جا رہی تھی کی یہاں سے عارف نسیم کو ٹکٹ دیا جائےگا۔ ورشا گائیکواڈ کوٹکٹ دیئے جانے کے بعد عارف نسیم خان نے انتخابی تشہیری مہم میں حصہ لینے سے انکار کر دیاتھا۔

اس ضمن مہا وکاس اگھاڑی کی طرف سے ریاست میں لوک سبھا انتخابات کے لیے کسی بھی مسلم امیدوار کو کھڑا نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو بتایا تھا کہ وہ انتخابی مہم سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

 کھرگے کو لکھے خط میں، خان نے کہا کہ وہ لوک سبھا انتخابات کے بقیہ مراحل کے لیے پارٹی امیدواروں کے لیے مہم نہیں چلائیں گے اور ریاستی کانگریس مہم کمیٹی سے بھی استعفیٰ دے رہے ہیں۔

a3w
a3w