تلنگانہ

ریونت ریڈی کے متنازعہ بیانات سے کانگریس پارٹی مشکل میں، ہائی کمان بھی ناراض؟

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اپنے متنازعہ اور بے باک بیانات کے باعث ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آگئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ چیف منسٹر کے بار بار دیے جانے والے بیانات کی وجہ سے کانگریس پارٹی کو سیاسی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ پارٹی ہائی کمان کی ناراضی کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اپنے متنازعہ اور بے باک بیانات کے باعث ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آگئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ چیف منسٹر کے بار بار دیے جانے والے بیانات کی وجہ سے کانگریس پارٹی کو سیاسی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ پارٹی ہائی کمان کی ناراضی کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ریونت ریڈی کے بعض حالیہ بیانات، جن میں کرکٹر محمد سراج، بے روزگار نوجوانوں اور انجینئروں سے متعلق مبینہ تبصرے شامل ہیں، نے کانگریس حکومت کے لیے غیر ضروری تنازع پیدا کردیا ہے۔

محمد سراج کے بارے میں ریونت ریڈی کے ایک مبینہ بیان پر بھی کافی تنقید ہوئی، جس میں انہوں نے سراج کو "دسویں فیل” قرار دیتے ہوئے ان کی ڈی ایس پی کے طور پر تقرری کا حوالہ دیا تھا۔ اس بیان پر سیاسی اور سوشل میڈیا حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔

اسی طرح بے روزگار نوجوانوں اور انجینئروں سے متعلق بعض مبینہ ریمارکس کو بھی اپوزیشن نے نشانہ بنایا ہے۔ مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں بے روزگاری ایک اہم مسئلہ ہے اور اس طرح کے بیانات حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

اپوزیشن، بالخصوص بی آر ایس، ان بیانات کو کانگریس حکومت کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ بی آر ایس قائدین نے کانگریس کی مرکزی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ دہلی میں دوسروں کو نصیحت کرنے سے قبل تلنگانہ میں اپنی پارٹی کی قیادت کو قابو میں رکھا جائے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے ریونت ریڈی سے متعلق بعض تنازعات کا نوٹس لیا ہے۔ تاہم، پارٹی قیادت کی جانب سے اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ ہائی کمان نے چیف منسٹر کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا سرزنش کی ہے۔

یہ تنازع تلنگانہ سے باہر بھی پہنچ گیا ہے۔ سیاسی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے مبینہ طور پر بہار اور وہاں کے عوام سے متعلق ریونت ریڈی کے بعض ریمارکس پر سخت ردعمل ظاہر کیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مزید بحث شروع ہوگئی۔

تلنگانہ کانگریس کے بعض سینئر قائدین کو تشویش ہے کہ اگر چیف منسٹر کے متنازعہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا اثر پارٹی کے مستقبل اور عوامی حمایت پر پڑ سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ریونت ریڈی کا جارحانہ سیاسی انداز کانگریس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تھا، لیکن چیف منسٹر بننے کے بعد ان سے زیادہ سنجیدگی، تحمل اور عہدے کے وقار کے مطابق طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے۔

دوسری جانب بی آر ایس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ریونت ریڈی کے متنازعہ بیانات اور کانگریس حکومت کے فیصلوں کو عوام کے درمیان مسلسل اٹھاتی رہے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازعات جاری رہے تو تلنگانہ میں کانگریس کی سیاسی حکمت عملی اور آئندہ انتخابی امکانات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، کانگریس ہائی کمان کی جانب سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حالیہ بیانات اور ان سے متعلق سیاسی الزامات پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔