تلنگانہ

سی ڈبلیو پی آر ایس کی رپورٹ: انّارم اور سُندیلا بیراجوں کے کنکریٹ کے معیار میں کوئی بڑی خامی نہیں

کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت آنے والے انّارم اور سُندیلا بیراجوں کے کنکریٹ کے معیار سے متعلق سنٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن (CWPRS) نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانچ کے دوران ان بیراجوں میں کوئی بڑی معیاری خامی سامنے نہیں آئی۔

حیدرآباد: کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت آنے والے انّارم اور سُندیلا بیراجوں کے کنکریٹ کے معیار سے متعلق سنٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن (CWPRS) نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانچ کے دوران ان بیراجوں میں کوئی بڑی معیاری خامی سامنے نہیں آئی۔

تازہ رپورٹ کے مطابق انّارم بیراج کے تمام 72 پیئرز کی جانچ کی گئی، جس میں کنکریٹ کے معیار کو تسلی بخش قرار دیا گیا اور کسی بڑے مسئلے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

اسی طرح سُندیلا بیراج کے ساتوں بلاکس میں موجود پیئرز کا بھی معائنہ اور جانچ کی گئی۔ سی ڈبلیو پی آر ایس کی جانب سے جاری ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق بیراج میں استعمال کیے گئے کنکریٹ کا معیار بہت اچھا پایا گیا اور جانچ کیے گئے حصوں میں کوئی بڑا ساختی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ میں میڈی گڈہ بیراج کے ساتویں بلاک کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں پہلے نقصان اور زمین میں دھنسنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ساتویں بلاک کے علاوہ باقی بلاکس میں کنکریٹ کے معیار سے متعلق کوئی بڑی خامی نہیں پائی گئی۔

متاثرہ ساتویں بلاک میں بھی پانچ پیئرز کو اچھی حالت میں پایا گیا، جبکہ باقی چھ پیئرز کے معیار اور حالت کے بارے میں مزید جانچ اور وضاحت کی ضرورت بتائی گئی ہے۔

سی ڈبلیو پی آر ایس کی ان تازہ جانچ رپورٹس کے بعد کالیشورم پروجیکٹ اور اس کے بیراجوں کے معیار کو لے کر جاری سیاسی اور تکنیکی بحث میں ایک نیا موڑ آنے کا امکان ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت کے حامیوں نے ان نتائج کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے کہ انّارم اور سُندیلا بیراجوں کی تعمیر کے معیار سے متعلق لگائے گئے وسیع پیمانے کے الزامات درست نہیں تھے۔

تاہم، میڈی گڈہ بیراج کے متاثرہ حصے کے حوالے سے مزید تکنیکی جانچ اور مستقبل کے اقدامات سے متعلق سرکاری فیصلوں کا انتظار ہے۔