تلنگانہ

تلنگانہ ہائی کورٹ نے منحرف ارکان اسمبلی کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

یہ معاملہ جسٹس اے پی سریش کمار سنگھ کی بنچ کے روبرو زیر سماعت آیا۔ بی آر ایس کے قائدین نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسپیکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف دائر نااہلی کی درخواستوں کو مسترد کردیا گیا تھا۔

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر پارٹی تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف دائر نااہلی کی درخواستوں سے متعلق معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عدالت 16 ستمبر کو اس معاملے پر اپنا حتمی فیصلہ سنانے والی ہے۔

یہ معاملہ جسٹس اے پی سریش کمار سنگھ کی بنچ کے روبرو زیر سماعت آیا۔ بی آر ایس کے قائدین نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسپیکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف دائر نااہلی کی درخواستوں کو مسترد کردیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران بی آر ایس قائدین کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء نے عدالت میں مختلف شواہد پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ متعلقہ ارکان اسمبلی بی آر ایس کے ٹکٹ پر انتخابات جیت کر اسمبلی پہنچے تھے، لیکن بعد میں کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے۔

بی آر ایس کے وکلاء نے مزید دلیل دی کہ ان ارکان اسمبلی نے کانگریس پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور بعض نے لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر بھی مقابلہ کیا، جس سے ان کے پارٹی چھوڑنے کا معاملہ واضح ہوتا ہے۔

دوسری جانب، مبینہ منحرف ارکان اسمبلی کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ارکان اب بھی بی آر ایس پارٹی کے ساتھ ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر پارٹی سے علیحدگی اختیار نہیں کی ہے۔

دونوں فریقین کے دلائل سننے اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے حتمی فیصلہ سنانے کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

اس مقدمے کے فیصلے کو تلنگانہ کی سیاست میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا اثر بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان ارکان اسمبلی کی مبینہ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی سے متعلق جاری تنازع پر پڑ سکتا ہے۔