تلنگانہ

حلقہ اسمبلی ملکاجگیری سے بی آر ایس امیدوار پر تجسس برقرار

حلقہ اسمبلی ملکاجگری میں بی آر ایس ٹکٹ کا معاملہ حل ہوتا نظرنہیں آ رہا ہے۔ اگرچہ کہ پارٹی نے موجودہ ایم ایل اے ایم ہنمنت راؤ کے لئے ٹکٹ کا اعلان کر دیا ہے لیکن ان کی امیدواری پر شکوک و شبہات باقی ہیں۔

حیدرآباد: حلقہ اسمبلی ملکاجگری میں بی آر ایس ٹکٹ کا معاملہ حل ہوتا نظرنہیں آ رہا ہے۔ اگرچہ کہ پارٹی نے موجودہ ایم ایل اے ایم ہنمنت راؤ کے لئے ٹکٹ کا اعلان کر دیا ہے لیکن ان کی امیدواری پر شکوک و شبہات باقی ہیں۔

متعلقہ خبریں
14ماہ بعد راجہ سنگھ پارٹی دفتر میں قدم رکھا
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

ہنمنت راؤ اپنے بیٹے کے لئے میدک سے ٹکٹ کا مطالبہ پر آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں تو دوسری طرف بی آرا یس بھی انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے  اور کسی بھی کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔ ہنمنت راؤ کے متبادل کے طور پر کسی اور امیدوار کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری طرف پارٹی میں دوسرے درجے کے قائدین ایک موقع دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ان قائدین کو اپنی سیاسی قوت دکھانے کا بھوت سوار ہے۔بار بار پارٹی قیادت سے امیدواربنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ خواہش مند افراد کی جانب سے پارٹی قیادت سے حالات کا اور انکے امیدواری کا فیصلہ کرنے سروے عمل میں لانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

حالیہ عرصہ کے دوران ان قائدین نے سوشل میڈیا پر اپنے نام کی  گردش کرا رہے ہیں۔ قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے کہ وزیرلیبر مالاریڈی کے داماد مری راج شیکھر ریڈی کو امیدوار بنایا جانا طے ہو چکا ہے۔

تحریک تلنگانہ کہ دوران اہم کردار ادا کرنے والے قائد بدم پرسورام ریڈی، جتیندر ریڈی، الوال کارپوریٹر شانتی سری نواساریڈی، سابق کارپوریٹر اکولا نرسنگ راؤ بھی ملکاجگیری سے ٹکٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

جیتندر ریڈی جو کمیونسٹ پارٹی کے  لیڈرہیں بلدیہ میں ٹی ڈی پی کی جانب سے کوآپشن ممبر نامزد کے گئے تھے اور پھر گوتم نگر ڈیویژن میں ایک بار اپنی بہن اور ایک بار اپنی بیوی کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے تھے، آج بی آر ا یس کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کررہے ہیں۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکاجگیری کے ایم ایل اے ایم ہنمنت راؤ کے بی آر ایس چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونا تقریباً طے ہوچکا ہے۔ اس پس منظر میں کے سی آر  نے پہلے ہی وزراء اور حلقہ کے سینئر قائدین سے ملاقات کی ہے اور اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ ہنمنت راؤ کی جگہ کون سا قائد مضبوط امیدوار ہوسکتا ہے۔

اگر ہنمنت راؤ پارٹی سے چلے جاتے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ وزیر مالاریڈی کے داماد مری راج شیکھر ریڈی جبکہ خواتین کوٹہ میں چنتلا شانتی سرینواس ریڈی میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قیادت امیدواروں کی سماجی اور معاشی طاقت کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

ملکاج گری کے سابق ایم ایل اے چنتلا کنکاریڈی کی بہو اور الوال کارپوریٹر شانتی سری نواساریڈی انہیں ٹکٹ دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ہریش راؤ اور ایم ایل سی کویتا پہلے ہی ان کی امیدواری کے لئے کے سی آر سے سفارش کر چکے ہیں۔