بھارتی بحریہ کو امریکہ سے دو جدید سمندری نگرانی ڈرون ملیں گے
اس کے لیے دونوں کے درمیان تقریباً 1,943 کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا ہے۔
نئی دہلی : ہندوستان نے سمندری علاقے خصوصاً بحرِ ہند میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بحریہ کے لیے 1943 کروڑ روپے کی لاگت سے امریکی کمپنی سے ڈھائی سال کے لیے دو جدید ترین ڈرون سسٹمز لیز یعنی پٹے پر لینے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
وزارتِ دفاع نے پیر کے روز بتایا کہ اس نے بحریہ کے لیے 30 مہینوں کی مدت کے لیے دو ایم کیو-9 بی ‘سی گارڈین ہائی آلٹی ٹیوڈ لانگ اینڈیورینس’ (ایچ اے ایل ای) ریموٹلی پائلٹڈ ایئر کرافٹ سسٹمز (آر پی اے ایس) کو پٹے پر لینے کے لیے جنرل اٹامکس ایروناٹیکل سسٹمز، انک کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے لیے دونوں کے درمیان تقریباً 1,943 کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا ہے۔
اس معاہدے پر آج یہاں وزارتِ دفاع میں محکمہ دفاع کے ایڈیشنل سکریٹری و ڈائریکٹر جنرل (ایکوزیشن)، اے انبراسو کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ جدید سسٹمز، جدید ترین سینسرز اور جدید پے لوڈز سے لیس ایم کیو – 9 بی (سی گارڈین) بحریہ کی سمندری علاقے میں نگرانی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ سسٹمز سمندری علاقے کے وسیع علاقوں میں مسلسل انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (آئی ایس آر) کوریج فراہم کریں گے، جس سے بحرِ ہند کے علاقے میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے اور ان پر ردِعمل دینے کی ہندوستان کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔