22 اے زمین مسئلہ پر وزیر پی سرینواس ریڈی کا کلکٹروں پر اظہارِ برہمی
اطلاعات کے مطابق، وزیر نے میڑچل-ملکاجگیری، رنگاریڈی، سنگاریڈی اور حیدرآباد کے کلکٹروں سے ان زمینوں کے بارے میں وضاحت طلب کی جو ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کردی گئی ہیں۔ انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب زمینوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کا مسئلہ انتظامیہ کی جانب سے پیدا ہوا ہے تو اس کا حل بھی متعلقہ حکام کو ہی نکالنا چاہیے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر برائے ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے سکریٹریٹ میں منعقدہ ایک جائزہ اجلاس کے دوران 22 اے زمینوں کے مسئلے پر مختلف اضلاع کے کلکٹروں اور اعلیٰ حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اطلاعات کے مطابق، وزیر نے میڑچل-ملکاجگیری، رنگاریڈی، سنگاریڈی اور حیدرآباد کے کلکٹروں سے ان زمینوں کے بارے میں وضاحت طلب کی جو ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کردی گئی ہیں۔ انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب زمینوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کا مسئلہ انتظامیہ کی جانب سے پیدا ہوا ہے تو اس کا حل بھی متعلقہ حکام کو ہی نکالنا چاہیے۔
وزیر پونگولیٹی نے مبینہ طور پر کہا، "22 اے کا مسئلہ آپ ہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، اس لیے اس کا حل بھی آپ ہی کو تلاش کرنا ہوگا۔”
جائزہ اجلاس کے دوران وزیر نے ریونیو اور رجسٹریشن محکموں میں بدعنوانی کے معاملات پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اے سی بی کے چھاپوں میں متعدد سرکاری عہدیداروں کے پکڑے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے سوال کیا کہ کیا اس طرح کے واقعات شرمندگی کا باعث نہیں ہیں۔
رشوت خوری پر تنقید کرتے ہوئے وزیر نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کھانا بھی ایک حد میں کھانا چاہیے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ کھایا جائے تو وہ بھی زہر بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس تبصرے کو مبینہ طور پر رشوت اور بدعنوانی سے جوڑتے ہوئے عہدیداروں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہنے کی سخت تنبیہ کی۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض انتظامی مسائل میں آئی اے ایس اور دیگر سرکاری عہدیداروں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جبکہ بنیادی مسئلے کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔
تلنگانہ میں 22 اے کے تحت زمینوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کا معاملہ کافی عرصے سے ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے، جس کے باعث متعدد زمین مالکان کو رجسٹریشن اور جائیداد کی خرید و فروخت کے معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے۔