زیر حراست افراد سے متعلق حساس معلومات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں: حیدرآباد پولیس
عوامی شعور بیداری مہم کے تحت پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ زیر حراست افراد کی ذاتی تفصیلات، ان کی موجودہ لوکیشن اور منتقلی کے راستوں سے متعلق معلومات غیر مجاز ایپس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسیجنگ گروپس میں شیئر کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ زیر حراست افراد، ان کی نقل و حرکت اور قیدیوں کی منتقلی سے متعلق حساس معلومات غیر سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔ پولیس نے خبردار کیا کہ ایسی معلومات کو غیر مجاز طریقے سے عام کرنے سے متعلقہ افراد کی رازداری اور سکیورٹی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
عوامی شعور بیداری مہم کے تحت پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ زیر حراست افراد کی ذاتی تفصیلات، ان کی موجودہ لوکیشن اور منتقلی کے راستوں سے متعلق معلومات غیر مجاز ایپس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسیجنگ گروپس میں شیئر کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
پولیس کے مطابق، ایسی معلومات غیر مجاز افراد تک پہنچنے سے متعلقہ لوگوں کی ذاتی تفصیلات اجنبی افراد کے سامنے آسکتی ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا آسان ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعل سازی، دھمکیاں دینے اور جبراً رقم وصول کرنے جیسے جرائم بھی انجام دیے جاسکتے ہیں۔
پولیس نے مزید خبردار کیا کہ اجازت کے بغیر زیر حراست افراد سے متعلق معلومات شیئر کرنے سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے غیر مجاز افراد کو باہمی رابطہ قائم کرنے اور سرکاری کارروائیوں میں مداخلت کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ زیر حراست افراد سے متعلق معلومات کی درخواست موصول ہونے پر متعلقہ پولیس یا جیل حکام کے مجاز ذرائع سے اس کی تصدیق کریں اور رابطے کے لیے صرف سرکاری پلیٹ فارمز استعمال کریں۔ انہیں حساس معلومات اپ لوڈ کرنے یا دوسروں کو فارورڈ کرنے سے بھی گریز کرنے اور مشتبہ درخواستوں یا معلومات کے ممکنہ غلط استعمال کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
’’جگرت حیدرآباد – محفوظ حیدرآباد‘‘ مہم کے تحت جاری اس ایڈوائزری میں سائبر سمبا پہل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویے کو فروغ دینا، افراد کی رازداری کا تحفظ کرنا اور سرکاری کارروائیوں کی سکیورٹی برقرار رکھنا ہے۔
حیدرآباد پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ حساس معلومات کے معاملے میں چوکس رہیں اور رازداری، عوامی تحفظ اور مقررہ ضوابط کی پابندی کو ترجیح دیں۔