حیدرآباد

کیا ہائیڈرا کی کارروائی صرف ان لوگوں کے خلاف ہوتی ہے جو کمیشن نہیں دیتے؟ ڈنڈیگل چروو کے بفر زون میں ولا پراجیکٹ پر سوالات

الزامات کے مطابق ایک معروف تعمیراتی کمپنی جھیل کے بفر زون میں تقریباً 150 ولاز تعمیر کر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس پراجیکٹ کی تشہیر 8.25 ایکڑ اراضی پر ولاز کی تعمیر کے طور پر کی جا رہی ہے، جو آؤٹر رنگ روڈ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے ڈنڈیگل چروو جھیل کے بفر زون میں مبینہ طور پر ایک بڑے ولا پراجیکٹ کی تعمیر کے معاملے پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

الزامات کے مطابق ایک معروف تعمیراتی کمپنی جھیل کے بفر زون میں تقریباً 150 ولاز تعمیر کر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس پراجیکٹ کی تشہیر 8.25 ایکڑ اراضی پر ولاز کی تعمیر کے طور پر کی جا رہی ہے، جو آؤٹر رنگ روڈ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس معاملے پر تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب یہ دعویٰ سامنے آیا کہ آبپاشی کے حکام نے تقریباً 18 ماہ قبل متعلقہ حکام کو ایک خط لکھ کر واضح کیا تھا کہ مذکورہ تعمیراتی مقام جھیل کے بفر زون میں واقع ہے۔

اس کے باوجود مبینہ طور پر حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HMDA) کی جانب سے پراجیکٹ کے لیے اجازتیں جاری کی گئیں۔ اس صورتحال نے متعلقہ حکام کے کردار پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

عوام اور ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر آبپاشی حکام پہلے ہی مذکورہ اراضی کو بفر زون میں ہونے کی نشاندہی کرچکے تھے تو اس کے باوجود تعمیراتی اجازتیں کیسے دی گئیں۔

دریں اثنا، HYDRAA، میونسپل حکام اور HMDA کی مبینہ خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جھیلوں اور آبی ذخائر کے تحفظ کے حوالے سے سخت کارروائی کے دعووں کے باوجود اس پراجیکٹ کے معاملے میں کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

عوامی حلقوں میں یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا HYDRAA کی جانب سے دوسرے معاملات میں کی جانے والی کارروائیاں یکساں طور پر تمام پراجیکٹس پر لاگو کی جا رہی ہیں یا نہیں۔ ناقدین نے HYDRAA کمشنر اے وی رنگناتھ اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے جھیلوں اور تالابوں کے تحفظ سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم، کمیشن سے متعلق الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام اور تعمیراتی کمپنی کی جانب سے بھی ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مقامی افراد اور ماحولیاتی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ولا پراجیکٹ کی منظوری، مذکورہ اراضی کے بفر زون میں ہونے کی حیثیت اور تمام متعلقہ ماحولیاتی و تعمیراتی قوانین کی پابندی کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔