یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر کی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی، پارلیمانی کمیٹی برائے فینانس کے رکن کانگریس ایم پیز کا دعویٰ
کانگریس ارکانِ پارلیمنٹ نے یو پی آئی کے ذریعہ 2ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگی پر 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ کئے جانے کے حالیہ اعلان پرتشویش کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس نے اِس تجویز پر مباحث نہیں کئے تھے۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) کانگریس ارکانِ پارلیمنٹ نے یو پی آئی کے ذریعہ 2ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگی پر 0.4 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) نافذ کئے جانے کے حالیہ اعلان پرتشویش کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس نے اِس تجویز پر مباحث نہیں کئے تھے۔
واضح رہے کہ نیشنل پے منٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے 0.4 فیصد چارجس کااعلان کیا ہے۔ کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ کے مطابق زیادہ تر تاجرین کو 2ہزار روپے سے زیادہ کے ہر لین دین پر بینکوں اور پے منٹ پروسیسر کو ادائیگی کرنی ہوگی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ گوروگوگوئی نے ایکس پر کہا کہ پارلیمانی اسٹانڈنگکمیٹی برائے فینانس نے اس پر غور نہیں کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈپارٹمنٹ آف فینانس نے کمیٹی کے ارکان کے ساتھ اپنے نمائندوں کی ملاقات کے دوران یو پی آئی ٹیکس سے متعلق کوئی واضح تجویز پیش نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس نے یو پی آئی ٹیکس کی کسی تجویز پر غور وبحث نہیں کیا تھا جس کا حال ہی میں مودی حکومت نے اعلان کیا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کمیٹی کے ارکان نے ایم ڈی آر کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا لیکن حکومت کے نمائندوں نے بات چیت کے دوران کوئی واضح یا اطمینان بخش جواب نہیں دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات کو دہراتا ہوں کہ یو پی آئی ٹیکس کی حالیہ پالیسی سے چھوٹے ہندوستانی تاجرین، فروخت کنندگان، صنعتکاروں کو نقصان پہنچے گا اور امریکہ کی بڑی کارپوریشنس کو مدد ملے گی۔
کانگریس کے پانچ ارکانِ پارلیمنٹ جو پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے فینانس میں شامل تھے ان میں سابق وزیر فینانس پی چدمبرم، منیش تیواری، گوروگوگوئی، کشوری لال اور کے گوپی ناتھ شامل ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے گوگوئی کے بیان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی رازدارانہ ہوتی ہے۔
سیاسی حساب کتاب کیلئے اس کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ تیواری نے کہا کہ یہ امر انتہائی بدبختانہ ہے کہ حکومت فائدہ اٹھانے کیلئے پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی کو استعمال کررہی ہے جسے راز میں رکھا جانا چاہئے۔ تیواری نے گوگوئی کے اس دعویٰ کی بھی تائید کی کہ کمیٹی کے سامنے ایسی کوئی تجویز نہیں رکھی گئی تھی جس میں یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کی تجویز رکھی گئی ہو۔