قومی

جو لوگ انسانوں کا موازنہ چیونٹیوں سے کرتے ہیں وہ بھی جج بن رہے ہیں، جسٹس اجل بھویاں کے اہم ریمارکس

عدالتی نظام میں شفافیت سے متعلق ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ ججوں کی تقرری اور ترقی کے معاملات میں کالجیئم کے طریقہ کار اور مناسب وجوہات فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے بعض نااہل افراد کے عدلیہ میں داخل ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے اہل افراد کو ترقی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھویاں نے ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلوں کے عمل میں زیادہ شفافیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کالجیئم کو اپنے فیصلوں کی وجوہات عوام کے سامنے لانی چاہئیں۔

عدالتی نظام میں شفافیت سے متعلق ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ ججوں کی تقرری اور ترقی کے معاملات میں کالجیئم کے طریقہ کار اور مناسب وجوہات فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے بعض نااہل افراد کے عدلیہ میں داخل ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے اہل افراد کو ترقی سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلوں کے لیے اختیار کیے جانے والے معیار اور وجوہات کو عوام کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ عدالتوں میں کیا ہوتا ہے اور ججوں کے انتخاب کے دوران کن اصولوں اور معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

جسٹس بھویاں نے کہا کہ ماضی میں کالجیئم اپنے کئی معاملات اور فیصلوں سے متعلق معلومات عوام کے سامنے رکھتا تھا، تاہم اب وہ صورتحال برقرار نہیں رہی۔ ان کے مطابق عدالتی نظام میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفافیت ضروری ہے۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں ایک ہائی کورٹ کے جج کی جانب سے کیے گئے بعض تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ریمارکس پر کالجیئم میں بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ججوں کے عہدے کے لیے افراد کی اہلیت، کردار اور عدالتی رویے کا مناسب جائزہ لیا جانا چاہیے۔

جسٹس بھویاں کے یہ ریمارکس 2024 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کی جانب سے کیے گئے متنازع تبصروں کے پس منظر میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ مذکورہ جج نے مبینہ طور پر مختلف ثقافتوں میں جانوروں کے حوالے سے رویوں کا موازنہ کرتے ہوئے بچوں کو چیونٹی تک کو نقصان نہ پہنچانے کی تعلیم دینے کا ذکر کیا تھا۔

دوسری جانب بعض ججوں کی جانب سے جسٹس سوریہ کانت کے نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچ‘ سے کرنے سے متعلق مبینہ تبصروں کے حوالے سے بھی بحث جاری رہی ہے۔

جسٹس اجل بھویاں کے ریمارکس کے بعد عدالتی تقرریوں کے کالجیئم نظام میں شفافیت، میرٹ اور جواب دہی کے معاملے پر ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی تقرری اور ترقی میں قابلیت اور دیانت داری کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔