مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت ذمہ داریاں نبھائی جائیں گی: پاکستان
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کے مقدس شہر پر یمن کے حوثیوں کی جانب سے مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کے بعد، پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
اسلام آباد (پی ٹی آئی) خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کے مقدس شہر پر یمن کے حوثیوں کی جانب سے مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کے بعد، پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والا یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ مشترکہ دفاعی لائحہ عمل تشکیل دیتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔چہارشنبہ کو جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان مکہ معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
چینل کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ ہم پر لاگو ہوتا ہے اور ہم اپنا فرض ادا کریں گے۔ خواجہ آصف کا یہ بیان سعودی حکام کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے شہر کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو مار گرایا ہے۔سعودی حکام کے مطابق اس ڈرون کو مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کے دعوے کی تردید کی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر مکہ پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے تحفظ کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، اور معاہدے کے بغیر بھی مقدس مقامات کا دفاع کرنا ان کا فرض ہے۔جمعرات کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے دفاعی معاہدے کے عزم کو دہرایا۔
سعودی عرب میں حوثیوں کے حالیہ حملوں کو ناکام بنانے اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے، لیکن آپریشنل راز داری کی بنا پر فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ کب، کہاں اور کس نوعیت کی فوجی قوت کا استعمال کیا جائے گا۔
انہوں نے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان، ایران اور پورے خطے کے مفاد میں ہے، اور باب المندب کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل نکالنے پر زور دیا۔چہارشنبہ کو خواجہ آصف نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر تینوں میں سے کسی بھی ملک کی علاقائی خودمختاری یا جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی تو یہ معاہدہ باہمی دفاع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی یا عسکری حکمتِ عملی کی تفصیلات سرعام زیرِ بحث نہیں لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حوثیوں کے حملوں پر سعودی عرب کے خدشات ایران تک پہنچائے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران بطور ریاست نیا محاذ نہیں کھولے گا کیونکہ وہ پہلے ہی علاقائی کشیدگی میں الجھا ہوا ہے۔
تاہم انہوں نے ایرانی ریاست اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایسے گروپس رسمی اجازت کے بغیر بھی کارروائیاں کر سکتے ہیں، اور حوثیوں و سعودی عرب کے تنازعہ میں ایران کی جانب داری تہران کے دیگر ممالک سے تعلقات کے تناظر میں دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔