مسلمانوں کی گفتگو کی بھی پولیسنگ کی جارہی ہے: محبوبہ مفتی
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے آپ کو غیرمحفوظ محسوس کررہی ہے اور کہا کہ مرکز میں حکمراں جماعت اب ملک میں مسلمانوں کی گفتگو پر بھی نظر رکھ رہی ہے۔
سری نگر (پی ٹی آئی) پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے آپ کو غیرمحفوظ محسوس کررہی ہے اور کہا کہ مرکز میں حکمراں جماعت اب ملک میں مسلمانوں کی گفتگو پر بھی نظر رکھ رہی ہے۔
آئی پی ایس عہدیدار بشریٰ بانو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے جن کا عہدہ کا جائزہ لینے کے صرف ڈھائی ماہ میں مغربی بنگال کے کھڑگپور میں اے ایس پی کے عہدہ سے تبادلہ کردیا گیا، محبوبہ مفتی نے کہا کہ اب ایسے واقعات سے اقلیتی برادری کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ چیف منسٹر مغربی بنگال (سویندو ادھیکاری) کی جانب سے انتخابات کو مسلمانوں کی وفاداری کی آزمائش قرار دئے جانے کے بعد ”السلام علیکم، انشاء اللہ اور جزاک اللہ“ کہنے پر بشریٰ بانو کا تبادلہ پوری برادری کیلئے ایک ڈھکی چھپی دھمکی کی ہے لیکن ایسے اقدامات سے اب ہمیں کوئی تکلیف یا صدمہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے کہ آپ پر سلامتی ہو جیسے معمولی الفاظ کے استعمال نے ایک بڑی سیاسی جماعت کو دہلادیا ہے۔ محبوبہ نے کہا کہ پہلے ہماری غذا، لباس اور شادیوں کے بعد اب ہماری گفتگو اور ووٹوں کی بھی پولیسنگ کی جارہی ہے۔ بی جے پی خود کو انتہائی غیرمحفوظ محسوس کررہی ہے۔