مشرق وسطیٰ

سعودی عرب آنے والے زائرین کو مکہ اور مدینہ میں نکاح پڑھانے کی سہولت

سعودی وزیر حج نے کہا کہ ’سرمایہ کار مختلف حوالوں سے منفرد سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹورسٹ گائیڈز، طبی سہولتیں، موبائل فارمیسیاں، بچوں کی نرسریاں، رہائش سے حرم تک ویل چیئر کی سہولت دی جاسکتی ہیں۔‘

ابو ظہبی: سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے عمرہ و حج پر آنے والے زائرین کے لیے نئی سہولتیں متعارف کرانے کی ترغیب دی ہے۔  منگل کو جدہ میں حج و عمرہ کانفرنس و نمائش کے ایک مباحثے کے دوران انہوں نے کہا’ بعض زائرین مکہ یا مدینہ میں نکاح  پڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ خدمات فراہم کرنے والے ادارے انہیں یہ سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ فوٹو گرافرکا بندوبست کیا جاسکتا ہے۔‘

متعلقہ خبریں
موسم گرما میں عمرہ کرنے والے زائرین کے لیے نئی ہدایات جاری
حج کمیٹی کو عازمین حج کی 11 ہزار سے زائد درخواستیں موصول، عنقریب ڈرا کی تاریخ کا اعلان
تلنگانہ و اے پی کے عازمین حج کی اگلے ماہ سے روانگی متوقع

’مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ سمیت مملکت کے کسی بھی علاقے کے لیے سیاحتی پروگرام منظم کیے جاسکتے ہیں۔‘  علاوہ ازیں ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے زائرین کو سہولتوں کی فراہمی میں انفرادیت کی حوصلہ افزائی کے لیے تین ایوارڈز کا بھی اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’منفرد خدمات کی حوصلہ افزائی  کے لیے ترغیبات اہمیت رکھتی ہیں۔ ’نسک اعمال‘ ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘ ’سب سے اچھے منصوبے پر دس لاکھ ریال، دوسرے بہترین منصوبے پر پانچ لاکھ اور تیسرے منصوبے پر ڈھائی لاکھ ریال کا انعام ہوگا۔ نتائج کا اعلان آئندہ حج کانفرنس میں ہو گا۔‘

سعودی وزیر حج نے کہا کہ ’سرمایہ کار مختلف حوالوں سے منفرد سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹورسٹ گائیڈز، طبی سہولتیں، موبائل فارمیسیاں، بچوں کی نرسریاں، رہائش سے حرم تک ویل چیئر کی سہولت دی جاسکتی ہیں۔‘

’ زائرین کے سفر کو یادگار بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کے سامنے بہت سارے کام ہیں جو کیے جاسکتے ہیں۔‘  انہوں نے کہا کہ ’ضیوف الرحمن پروگرام کے نمایاں ترین اہداف میں سے یہ ہے کہ حج و عمرے پر آنے والوں کے سفر زیارت کو یادگار بنایا جائے۔ ضیوف الرحمن پروگرام سعودی وژن 2030 کے پروگراموں میں سے ایک ہے۔‘ ’عمرہ زائرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے کافی کچھ کرنے کا ایک بڑا محرک ہے۔‘