محبوب آباد سرکاری اسپتال میں بچے کو مبینہ طور پر زائد المیعاد دوا دینے کا معاملہ، والد کا شدید احتجاج
اطلاعات کے مطابق اندرا نگر کالونی کے رہائشی مرلی اپنے چار سالہ بیٹے اینوس راج کو الٹی اور دست کی شکایت پر محبوب آباد کے سرکاری اسپتال لے گئے۔ او پی (OP) میں ڈاکٹروں نے بچے کا معائنہ کرنے کے بعد دو شربت تجویز کیے۔
محبوب آباد: تلنگانہ کے محبوب آباد ضلع اسپتال میں ایک چار سالہ بچے کو مبینہ طور پر زائد المیعاد (ایکسپائر) دوا فراہم کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد بچے کے والد نے اسپتال کے عملے کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
اطلاعات کے مطابق اندرا نگر کالونی کے رہائشی مرلی اپنے چار سالہ بیٹے اینوس راج کو الٹی اور دست کی شکایت پر محبوب آباد کے سرکاری اسپتال لے گئے۔ او پی (OP) میں ڈاکٹروں نے بچے کا معائنہ کرنے کے بعد دو شربت تجویز کیے۔
اسپتال کے عملے نے ایک شربت اسپتال سے فراہم کیا جبکہ دوسرا شربت باہر سے خریدنے کا مشورہ دیا۔ جب مرلی گھر پہنچ کر بچے کو دوا پلانے لگے تو انہوں نے شربت کی بوتل پر درج تاریخ دیکھی، جس کے مطابق دوا کی مدتِ استعمال جون 2026 میں ختم ہو چکی تھی۔
یہ دیکھ کر مرلی فوری طور پر دوبارہ اسپتال پہنچے اور عملے سے اس بارے میں وضاحت طلب کی، جس پر ان کی اسپتال کے عملے سے تلخ کلامی ہوگئی۔
شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے مرلی نے کہا، "اگر بچے کو زائد المیعاد دوا دے دی جائے تو کیا اس کی جان چلی جائے؟” انہوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی جانچ اور تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس واقعے پر اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اس معاملے نے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت اور ادویات کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔