قومی

وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن آج پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے پیش کریں گی

اقتصادی سروے وزارتِ خزانہ کے اقتصادی شعبے کی جانب سے چیف اکنامک ایڈوائزر کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے، جس میں ملک کی معیشت سے متعلق اہم رجحانات، چیلنجز اور حاصل شدہ کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن آج پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے آف انڈیا پیش کریں گی۔ یہ سروے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں
نرملا سیتارمن کے خلاف تحقیقات پر کرناٹک ہائی کورٹ کی روک
منی پور کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پوری طاقت سے اٹھایا جائے گا: راہول گاندھی
مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کو دور کیا جائے۔ کانگریس ایم پیز کا زور
سی آئی ایس ایف کا 3300 رکنی دستہ آج سے پارلیمنٹ سیکوریٹی سنبھال لے گا
کویتی پارلیمنٹ تحلیل

اقتصادی سروے وزارتِ خزانہ کے اقتصادی شعبے کی جانب سے چیف اکنامک ایڈوائزر کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے، جس میں ملک کی معیشت سے متعلق اہم رجحانات، چیلنجز اور حاصل شدہ کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

سروے میں نہ صرف موجودہ معاشی حالت کا تجزیہ شامل ہے، بلکہ آئندہ مالی سال کے لیے مستقبل پر مبنی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں ممکنہ پالیسی سمتوں، تخمینوں اور اندازوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ اقتصادی سروے کے بعد یکم فروری کو وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن مرکزی بجٹ 2026-27 پیش کریں گی۔


دوسری جانب شہری ہوابازی کے مرکزی وزیرِ مملکت مرلی دھر موہول، ایئرپورٹس اکنامک ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (اے ای آر اے) سے متعلق دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس اکنامک ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا، نئی دہلی کے کام کاج سے متعلق سال 2024-25 کی جائزہ رپورٹ بھی ایوان میں رکھی جائے گی۔

ایجنڈے کے مطابق ایوان کی کارروائی کا آغاز وقفہ سوالات سے ہوگا، جس کے بعد مرکزی کابینہ کے اراکین مختلف وزارتوں سے متعلق دستاویزات ایوان کی میز پر رکھیں گے۔ نرملاسیتا رمن وزارتِ خزانہ سے متعلق جبکہ مرلی دھر موہول وزارتِ شہری ہوابازی سے متعلق کاغذات پیش کریں گے۔

دن کے ایجنڈے میں ان آٹھ بلوں کو باضابطہ طور پر ایوان میں پیش کرنا بھی شامل ہے، جنہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے اور بعد ازاں صدرِ جمہوریہ کی منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی 13ویں رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جائے گی، جسے کرن رجیجو اور کوڈی کنّل سریش پیش کریں گے۔

بجٹ اجلاس کا دورانیہ مجموعی طور پر 65 دنوں میں 30 نشستوں پر مشتمل ہوگا اور یہ اجلاس 2 اپریل کو اختتام پذیر ہوگا۔ پارلیمنٹ 13 فروری کو وقفے کے لیے ملتوی ہوگی اور 9 مارچ کو دوبارہ اجلاس شروع ہوگا، تاکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں مختلف وزارتوں اور محکموں کے گرانٹس مطالبات کا جائزہ لے سکیں۔ بجٹ اجلاس سے قبل منگل کے روز وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ایک کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اجلاس کے دوران اٹھائے جانے والے امور پر تبادلۂ خیال کیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس کل جماعتی اجلاس میں وزرا سمیت 39 سیاسی جماعتوں کے 51 رہنماؤں نے شرکت کی۔ رہنماؤں کو آگاہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 2026 بدھ 28 جنوری 2026 سے شروع ہوا ہے اور سرکاری کام کاج کی ضرورت کے تحت جمعرات 2 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔ اجلاس کے دوران دونوں ایوان 13 فروری 2026 کو وقفے کے لیے ملتوی ہوں گے اور 9 مارچ 2026 کو دوبارہ کارروائی کا آغاز ہوگا۔ بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں 13 اور دوسرے مرحلے میں 17 نشستیں ہوں گی، یوں مجموعی طور پر اجلاس 30 نشستوں پر مشتمل ہوگا۔