تلنگانہ

محکمہ جنگلات کے حکام نے رائس ملز سے دو لنگروں کو بچایا

جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی کارکن اور این جی او اسٹرے اینیمل فاؤنڈیشن آف انڈیا کی رکن ایم پریتی کی شکایت پر محکمہ جنگلات کے حکام نے چامنڈی رائس انڈسٹریز اور دتاسائی رائس انڈسٹری پرچھاپے مارے۔

حیدرآباد: محکمہ جنگلات کے حکام نے تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے علاقہ کوڈمیال کی دو مختلف رائس ملز میں غیر قانونی طور پر قیددو لنگوروں کو بچایا۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ: اسکول وین کی زد میں آکر کمسن لڑکی جاں بحق
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش


جانوروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی کارکن اور این جی او اسٹرے اینیمل فاؤنڈیشن آف انڈیا کی رکن ایم پریتی کی شکایت پر محکمہ جنگلات کے حکام نے چامنڈی رائس انڈسٹریز اور دتاسائی رائس انڈسٹری پرچھاپے مارے۔

معائنہ کے دوران ان ملوں سے لنگوروں کو برآمد کر لیا گیا۔


ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والا سینو نامی شخص غیر قانونی طور پر لنگوروں کو آندھرا پردیش سے تلنگانہ منتقل کر کے فروخت کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کے شیڈول II کے تحت لنگور ایک محفوظ نسل کے جانور ہیں اور انہیں پکڑنا، منتقل کرنا، فروخت کرنا یا قید میں رکھنا ایک سنگین جرم ہے۔


دوسری جانب جانوروں کے حقوق کے سرگرم کارکن گوتم نے ضلع کلکٹر کو ایک شکایت پیش کی ہے جس میں جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث اصل ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔