انٹرٹینمنٹ

عائشہ خان کی پولیس حراست سے سلمان خان تک، بالی ووڈ کی بڑی شخصیات نیٹ طلبہ تحریک کے حق میں سامنے آگئیں

عائشہ خان نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں زبردستی پولیس وین تک لے جایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "میرا قصور کیا تھا؟ کیا میں نے شور مچایا؟ کیا میں نے احتجاج کیا؟ کیا صرف سڑک پر کھڑا ہونا جرم بن گیا ہے؟" ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بار بار پولیس سے پوچھا کہ انہیں کس قانون کے تحت حراست میں لیا جا رہا ہے، مگر انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

ممبئی/نئی دہلی: نیٹ 2026 امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں جاری طلبہ کی احتجاجی تحریک کو اب بالی ووڈ، موسیقی اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ معروف شخصیات کی بھی کھل کر حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ توجہ اداکارہ عائشہ خان کی ان ویڈیوز نے حاصل کی ہے، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممبئی پولیس نے انہیں پُرامن طور پر سڑک پر کھڑے ہونے کے باوجود حراست میں لے لیا۔

عائشہ خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کئی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نیٹ کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ممبئی میں موجود تھیں، لیکن احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ پولیس وین سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں وہ جذباتی انداز میں کہتی سنائی دیں کہ "میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں، مجھے صرف پُرامن انداز میں سڑک پر کھڑے ہونے کی وجہ سے پولیس وین میں بٹھا دیا گیا ہے۔”

اداکارہ کے مطابق وہ اپنے بھائی اور چند دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے ان کے بھائی اور دیگر ساتھیوں کو حراست میں لیا تو وہ صرف صورتحال جاننے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن اسی دوران متعدد پولیس اہلکار، جن میں خواتین اہلکار بھی شامل تھیں، انہیں بھی پولیس وین میں بٹھا کر ورلی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔

عائشہ خان نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں زبردستی پولیس وین تک لے جایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "میرا قصور کیا تھا؟ کیا میں نے شور مچایا؟ کیا میں نے احتجاج کیا؟ کیا صرف سڑک پر کھڑا ہونا جرم بن گیا ہے؟” ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بار بار پولیس سے پوچھا کہ انہیں کس قانون کے تحت حراست میں لیا جا رہا ہے، مگر انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

اپنے پیغام کے اختتام پر عائشہ خان نے کہا کہ ملک میں جوابدہی کی کمی ہے، تاہم انہیں اب بھی امید ہے کہ نوجوانوں کی آواز سنی جائے گی اور مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے۔

ادھر بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی بھی دہلی کے جنتر منتر پہنچیں، جہاں انہوں نے جاری طلبہ تحریک میں شرکت کرتے ہوئے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ان کے ساتھی رچت سنگھ اور بھائی ساقب سلیم بھی موجود تھے۔ ہما قریشی نے احتجاج سے قبل سوشل میڈیا پر پولیس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے معاملات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت اور تحمل میں ہے۔

جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں معروف اداکارہ شبانہ اعظمی، اداکار پرکاش راج اور نصیر الدین شاہ سمیت کئی سرکردہ شخصیات بھی شریک ہوئیں اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔

دوسری جانب ممبئی میں بھی احتجاجی مظاہروں میں فلمی شخصیات کی شرکت دیکھی گئی۔ اداکار عمران خان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر حمایت کا اظہار کیا بلکہ خود احتجاجی مارچ میں شریک ہو کر طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس سے قبل بھی وہ امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

اداکار رتیش دیش مکھ اور جنیلیا دیش مکھ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے نوجوانوں کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ سوناکشی سنہا، فاطمہ ثنا شیخ، بھومی پیڈنیکر، دلجیت دوسانجھ اور معروف موسیقار وشال ددلانی نے بھی احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

اسی دوران بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دیانت داری کی توقع طلبہ سے کی جاتی ہے، وہی شفافیت امتحانات منعقد کرنے والے اداروں میں بھی ہونی چاہیے۔ سلمان خان نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ اس تحریک کو صرف تعلیم اور طلبہ کے مستقبل تک محدود رکھا جائے اور اسے سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

ادھر بھارت کی ہپ ہاپ اور ریپ برادری بھی اس تحریک میں سرگرم نظر آئی۔ معروف ریپر رافتار ممبئی میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے طلبہ سے ملاقات کی، ان کے حق میں نعرے لگائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔

اسی طرح معروف ریپر ہنومن کائنڈ بھی احتجاج میں شریک ہوئے اور طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ ان کے اس اقدام کو مداحوں نے خوب سراہا اور کہا کہ انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے نوجوانوں کی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اریجیت سنگھ، زینت امان، شبانہ اعظمی، نصیر الدین شاہ، پرکاش راج، رتیش دیش مکھ، ویر داس، سوناکشی سنہا، دلجیت دوسانجھ اور دیگر کئی معروف شخصیات بھی اس تحریک کی حمایت کر چکی ہیں۔ ان شخصیات کا کہنا ہے کہ حکومت احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرے، ان کے خدشات دور کرے اور امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک اب ایک قومی بحث کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ فلمی دنیا، موسیقی، ادب اور دیگر شعبوں سے وابستہ