دہلی

احتجاج میں شامل خاتون کو تھپڑ مارنے کا ویڈیو وائرل، دہلی پولیس عہدیدار کو جنتر منتر سے ہٹادیا گیا

یہ احتجاج ہزاروں طلبہ اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے حامیوں کی جانب سے نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر کیا جا رہا تھا، جبکہ مظاہرین مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔

نئی دہلی: نیٹ 2026 امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کے دوران خاتون مظاہرہ کرنے والی کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد دہلی پولیس کے سینئر افسر سندیپ لمبا کو جنتر منتر احتجاجی مقام سے ہٹا دیا گیا ہے۔

سندیپ لمبا، جو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (نارتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ) کے عہدے پر تعینات تھے، 20 جولائی کو اس وقت خبروں میں آئے جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ احتجاج کے دوران ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی کو تھپڑ مارتے ہوئے دکھائی دیے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کے طرزِ عمل پر شدید تنقید شروع ہو گئی۔

یہ احتجاج ہزاروں طلبہ اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے حامیوں کی جانب سے نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر کیا جا رہا تھا، جبکہ مظاہرین مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔

ادھر سابق ترنمول کانگریس رکنِ پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے بھی سندیپ لمبا کے خلاف باضابطہ پولیس شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ دہلی ہائی کورٹ میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس تشدد کے معاملے میں کسی نے ایف آئی آر درج نہیں کرائی، جس کے بعد انہوں نے خود شکایت جمع کرا دی۔

دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران سینئر وکیل گوپال سنکر نارائنن نے عدالت کے سامنے وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خاتون نہ کوئی تشدد کر رہی تھیں اور نہ ہی مزاحمت، اس کے باوجود ایک سینئر پولیس افسر نے انہیں تھپڑ مارا۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ افسر کو طلب کر کے جوابدہ بنایا جائے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے مقررہ طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا۔ ان کے مطابق پہلے واٹر کینن استعمال کیے جانے چاہیے تھے، لیکن اس کے بجائے پولیس نے براہِ راست مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل داغے اور بعد میں لاٹھی چارج بھی کیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے پر دائر عوامی مفاد کی درخواستوں پر دہلی پولیس، مرکزی حکومت اور قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ پولیس کارروائی سے متعلق تمام شواہد، بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیو ریکارڈنگ، محفوظ رکھی جائے تاکہ آئندہ تحقیقات میں استعمال کی جا سکے۔

واضح رہے کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ہزاروں طلبہ اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے حامی "چلو پارلیمنٹ” مارچ کے لیے جنتر منتر پر جمع ہوئے تھے۔ اگرچہ دہلی پولیس نے اس احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی، تاہم مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔

پولیس کے مطابق بیریکیڈز توڑنے کی کوشش کے دوران تقریباً 50 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے، جبکہ متعدد مظاہرین کو بھی چوٹیں آئیں۔

بعد ازاں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے دو نمائندوں نے مرکزی وزیرِ صحت جے پی نڈا سے ملاقات کر کے اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا آغاز مئی 2026 میں ابھیجیت دپکے نے ایک طنزیہ ڈیجیٹل مہم کے طور پر کیا تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد ازاں ابھیجیت دپکے امریکہ سے بھارت واپس آئے اور تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور پیپر لیک کے خلاف احتجاجی تحریک کی قیادت سنبھالی۔

بعد میں معروف سماجی کارکن سونم وانگچک بھی اس تحریک میں شامل ہوئے اور 28 جون سے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ تاہم طبیعت خراب ہونے پر پولیس انہیں سرکاری اسپتال منتقل کر کے گئی، جس کے بعد عدالت کی اجازت سے انہیں گروگرام کے میڈانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔