حیدرآباد

Gandhi Hospital، نوجوان کی آنکھ میں پھنسے اسکروڈرائیور کوگاندھی اسپتال کے ڈاکٹرس نے کامیابی سے نکالا

 8 اپریل کو وہ مرمت کا کام کر رہا تھا کہ اچانک اسکرو ڈرائیور اس کی دائیں آنکھ میں گہرائی تک گھس گیا۔اس کے ارکان خاندان فوراً اسے بنجارہ ہلز میں ایک پرائیویٹ آئی اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر اگلے دن اسے نِمس اسپتال منتقل کیا گیا۔

حیدرآباد: اتفاقی طور پر ایک نوجوان کی آنکھ میں اسکرو ڈرائیور گھس گیا، جسے سکندرآباد کے گاندھی اسپتال کے ڈاکٹروں نے کامیاب آپریشن کے ذریعہ نکال دیا۔ تفصیلات کے مطابق،ضلع میدک کے کوچارم گاؤں سے تعلق رکھنے والا رنجیت ایک الیکٹریکل میکانک ہے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
تلنگانہ میں ای ڈی نے بھارتی بلڈرز کی جائیداد ضبط کرلی
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت

 8 اپریل کو وہ مرمت کا کام کر رہا تھا کہ اچانک اسکرو ڈرائیور اس کی دائیں آنکھ میں گہرائی تک گھس گیا۔اس کے ارکان خاندان فوراً اسے بنجارہ ہلز میں ایک پرائیویٹ آئی اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر اگلے دن اسے نِمس اسپتال منتقل کیا گیا۔

 نِمس کے ڈاکٹروں نے معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے 10 اپریل کو رنجیت کو گاندھی اسپتال رجوع کیا۔گاندھی اسپتال کے ڈاکٹروں نے ٹسٹ کرنے کے بعد بتایا کہ آنکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اسکرو ڈرائیور صرف اوپری حصہ میں پھنسا ہوا تھا۔

اسے نیورو سرجری شعبہ میں منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً دو گھنٹے طویل آپریشن کے بعد اسکرو ڈرائیور کو کامیابی سے نکال لیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ رنجیت کی حالت بہتر ہے اور جلد ہی اسے گھرجانے کی اجازت دے دی جائے گی۔