جی ایچ ایم سی نے جائیدادٹیکس، 2000 کروڑ روپے کا نشانہ عبور کرلیا
حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے جائیداد ٹیکس کی وصولی میں تاریخ رقم کرتے ہوئے 2012.36 کروڑ روپے کا مقررہ نشانہ عبور کر لیا ہے۔

حیدرآبادیکم: حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے جائیداد ٹیکس کی وصولی میں تاریخ رقم کرتے ہوئے 2012.36 کروڑ روپے کا مقررہ نشانہ عبور کر لیا ہے۔
مالی سال 2024-25 کے لئے جی ایچ ایم سی نے جائیداد ٹیکس کی وصولی کا نشانہ 1970.10 کروڑ روپے مقرر کیا تھا، تاہم اس سے 42.26کروڑ روپئے زیادہ وصول کئے گئے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ مزید 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی ہو سکتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے دائرہ کار میں 19.49 لاکھ جائیدادیں شامل ہیں، جن میں 16.35 لاکھ رہائشی، 2.80 لاکھ غیر رہائشی اور 34ہزار مخلوط استعمال کی جائیدادیں ہیں۔ اب تک تقریباً 16 لاکھ مالکین نے 2012.365کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا ہے۔
حکام کے مطابق سیری لنگم پلی، چندا نگر، خیریت آباد، جوبلی ہلز، کوکٹ پلی اور ایل بی نگر میں سب سے زیادہ جائیداد ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ چارمینار زون میں سب سے کم وصولی ہوئی۔ مقررہ نشانہ سے زیادہ ٹیکس وصولی کے بعد حکومت نے 2025۔26 مالی سال کے لئے ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔
اس کے تحت اگر کوئی شہری 30 اپریل تک جائیداد ٹیکس ادا کرتا ہے تو اسے 5 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔ حکومت نے شہریوں سے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ جی ایچ ایم سی کی ریکارڈ توڑ ٹیکس وصولی پر کمشنر ایلمبرتی نے ایڈیشنل کمشنر (ریونیو) انوراگ جینتی اور جوائنٹ کمشنر مہیش کلکرنی کی کاوشوں کی ستائش کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بل کلکٹرس، ٹیکس انسپکٹرس، اسسٹنٹ میونسپل کمشنرس ڈپٹی کمشنرس اور زونل کمشنرس کی محنت کے باعث ہی مقررہ نشانہ سے زیادہ ٹیکس کی وصولی ممکن ہو سکی۔