حیدرآباد

حیدرآباد میں جائیداد خریدنے کا سنہری موقع، مگر قانونی جانچ میں غفلت مہنگی پڑ سکتی ہے

ڈاکٹر حسینی نے کہا کہ بہترین انفراسٹرکچر، روزگار کے وسیع مواقع، پُرامن ماحول اور جائیداد کے مضبوط تحفظ کی وجہ سے حیدرآباد ملک کے پسندیدہ سرمایہ کاری مراکز میں شامل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق میٹرو ریل کی توسیع، ریجنل رنگ روڈ، فیوچر سٹی اور آئی ٹی و فارما سیکٹر کی مسلسل ترقی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھایا ہے، جبکہ مختلف ریاستوں سے پیشہ ور افراد کی حیدرآباد آمد نے رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ اور حیدرآباد تیزی سے ترقی کرنے والی جائیداد منڈیوں میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، آئی ٹی شعبے کی توسیع، میٹرو رابطہ، فارما انڈسٹری کی ترقی اور حکومت کی مختلف ترقیاتی اسکیموں نے شہر کو سرمایہ کاری کے لیے مزید پُرکشش بنا دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق جائیداد خریدنے والوں کے لیے قانونی جانچ پڑتال اور دستاویزات کی تصدیق آج بھی سب سے اہم مرحلہ ہے۔

یہ امور منصف نیوز 24×7 کے خصوصی لائیو پروگرام میں زیر بحث آئے جس کی میزبانی ڈاکٹر عبدالمغنی صدیقی نے کی۔ پروگرام میں حکومتِ تلنگانہ کے محکمہ رجسٹریشن و اسٹامپس کے سینئر افسر اور تلنگانہ نان گزٹیڈ رجسٹریشن آفیسرس یونین کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ایس ایم حسینی (مجیب) نے تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔

ڈاکٹر حسینی نے کہا کہ بہترین انفراسٹرکچر، روزگار کے وسیع مواقع، پُرامن ماحول اور جائیداد کے مضبوط تحفظ کی وجہ سے حیدرآباد ملک کے پسندیدہ سرمایہ کاری مراکز میں شامل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق میٹرو ریل کی توسیع، ریجنل رنگ روڈ، فیوچر سٹی اور آئی ٹی و فارما سیکٹر کی مسلسل ترقی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھایا ہے، جبکہ مختلف ریاستوں سے پیشہ ور افراد کی حیدرآباد آمد نے رہائشی اور تجارتی جائیدادوں کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

’’کیا یہ جائیداد خریدنے کا صحیح وقت ہے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر حسینی نے کہا کہ موجودہ حالات خریداروں کے لیے سازگار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 18 سے 20 ماہ کی نسبتاً سست منڈی کے بعد کئی علاقوں میں جائیداد کی قیمتیں اپنی سابقہ بلند سطح کے مقابلے میں تقریباً 25 تا 30 فیصد تک کم ہوئی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جو خریدار قانونی دستاویزات کی مکمل جانچ کریں اور منظور شدہ لے آؤٹس کا انتخاب کریں، ان کے لیے یہ طویل مدتی سرمایہ کاری کا مناسب وقت ہو سکتا ہے۔

پروگرام میں رجسٹریشن سرور میں حالیہ خلل سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے۔ ڈاکٹر حسینی نے وضاحت کی کہ محکمہ رجسٹریشن نے سافٹ ویئر اپ گریڈیشن کے دوران عارضی طور پر بکنگ سلاٹس روک دیے تھے، کیونکہ پورے تلنگانہ میں استعمال ہونے والے اس پورٹل کی کارکردگی اور سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹس ضروری ہوتی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ خدمات بحال کی جا رہی ہیں اور جلد ہی رجسٹریشن معمول کے مطابق شروع ہو جائے گی۔

رجسٹریشن فیس میں اضافے کی خبروں پر انہوں نے واضح کیا کہ رجسٹریشن چارجز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، البتہ حکومت نے مختلف علاقوں میں مارکیٹ ویلیو کا ازسرِنو تعین کیا ہے کیونکہ سرکاری قیمتیں حقیقی مارکیٹ ریٹ سے کم تھیں۔ اسی وجہ سے بعض علاقوں میں اسٹامپ ڈیوٹی کی رقم بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر حسینی نے خریداروں کو خبردار کیا کہ صرف فروخت کنندہ کی باتوں پر بھروسہ نہ کریں۔ کسی بھی پیشگی رقم کی ادائیگی سے پہلے اصل ٹائٹل دستاویزات، انکمبرنس سرٹیفکیٹ (EC)، تازہ پراپرٹی ٹیکس رسیدیں، بجلی و پانی کے بل، فروخت کنندہ کی شناخت، اور پلاٹ یا زمین کی مکمل تفصیلات ضرور چیک کریں۔ انہوں نے خاص طور پر مشورہ دیا کہ EC کی مصدقہ نقل براہِ راست محکمہ رجسٹریشن سے حاصل کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جعلی رجسٹریشن پیپرز، فرضی EC، نقلی سرکاری مہریں اور دیگر جعلی دستاویزات پہلے سے زیادہ مہارت کے ساتھ تیار کیے جا رہے ہیں، اس لیے معمولی تصدیقی اخراجات مستقبل کے بڑے مالی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔

حیدرآباد کے پرانے شہر سمیت کئی علاقوں میں آج بھی ایسی جائیدادیں موجود ہیں جو صرف نوٹری معاہدوں کے ذریعے خریدی گئی تھیں۔ ڈاکٹر حسینی کے مطابق نوٹری دستاویزات بعض اوقات عدالتوں اور مالیاتی اداروں میں قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں، اس لیے جہاں ممکن ہو قانونی توثیق کا عمل مکمل کرایا جائے اور رجسٹریشن کے فوراً بعد میوٹیشن بھی کرائی جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ رجسٹریشن کے بعد میوٹیشن کو ہرگز نظرانداز نہ کیا جائے، کیونکہ میونسپل ریکارڈ اپنے نام منتقل نہ ہونے کی صورت میں مستقبل میں فروخت، وراثت، بینک قرض اور قانونی تنازعات میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

وراثتی جائیدادوں کے حوالے سے انہوں نے مشورہ دیا کہ والدین کی زندگی میں ہی تقسیم نامہ، ہبہ نامہ یا دستبرداری نامہ مکمل کر لینا بہتر ہوتا ہے تاکہ بھائی بہنوں کے درمیان مستقبل کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ اگر اصل مالک فوت ہو چکا ہو تو سکسیشن سرٹیفکیٹ اور قانونی ورثاء کی دستاویزات انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔

HMDA، DTCP اور گرام پنچایت لے آؤٹس کے فرق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ HMDA لے آؤٹس عام طور پر سخت شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کے تحت منظور ہوتے ہیں، DTCP لے آؤٹس بھی سرکاری ضوابط کے مطابق منظور شدہ ہوتے ہیں، جبکہ گرام پنچایت لے آؤٹس دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان میں ریگولیٹری تحفظ نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔

پروگرام کے اختتام پر ماہرین نے خریداروں کو مشورہ دیا کہ ہر اصل دستاویز کی مکمل تصدیق کریں، EC سرکاری ذرائع سے حاصل کریں، ٹیکس اور یوٹیلٹی ریکارڈ چیک کریں، رجسٹریشن کے فوراً بعد میوٹیشن مکمل کریں، صرف نوٹری دستاویزات پر انحصار نہ کریں، اور کسی بھی جائیداد میں سرمایہ کاری سے پہلے اس کی منظوری کی حیثیت ضرور معلوم کریں۔

ماہرین کے مطابق حیدرآباد تیز رفتار ترقی اور معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے مستقبل میں بھی ایک مضبوط رئیل اسٹیٹ مرکز بن سکتا ہے، لیکن کامیاب سرمایہ کاری کے لیے قانونی جانچ پڑتال اور درست دستاویزات کی تصدیق سب سے اہم شرط ہے۔