ہریش راؤ تنقید کا جواب دیں، قانونی نوٹس بھیجنے کا کوئی جواز نہیں: اے آئی سی سی سکریٹری سمتھ کمار
آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی سمتھ کمار نے کہا ہے کہ بی آر ایس کے سینئر رہنما ٹی ہریش راؤ کو کانگریس قائدین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور کی گئی تنقید کا جواب دینا چاہیے، نہ کہ قانونی نوٹس بھیجنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
حیدرآباد: آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی سمتھ کمار نے کہا ہے کہ بی آر ایس کے سینئر رہنما ٹی ہریش راؤ کو کانگریس قائدین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور کی گئی تنقید کا جواب دینا چاہیے، نہ کہ قانونی نوٹس بھیجنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سمتھ کمار نے کہا کہ اگر کانگریس کے الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو پارٹی ثبوت پیش کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اختلافِ رائے کا جواب قانونی نوٹس نہیں بلکہ حقائق کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بی آر ایس رہنما اور سابق آئی پی ایس افسر آر ایس پروین کمار کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سمتھ کمار نے الزام عائد کیا کہ آر ایس پروین کمار مسلسل کانگریس قائد راہل گاندھی کے خلاف غیر مناسب بیانات دے رہے ہیں، جبکہ انہیں ایسی تنقید کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں۔
سمتھ کمار نے دعویٰ کیا کہ آر ایس پروین کمار نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے بی ایس پی کو بی آر ایس کے قریب کر دیا اور اب وہ بی آر ایس قیادت کے دفاع میں غیر ضروری بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سابق آئی پی ایس افسر سے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہریش راؤ کو چاہیے کہ وہ عوامی سطح پر اٹھائے گئے سوالات اور الزامات کا مدلل جواب دیں۔ ان کے مطابق، "تنقید کے جواب میں قانونی نوٹس بھیجنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔”
سمتھ کمار کے ان بیانات پر بی آر ایس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔