قومی

بڈگام میں خوفناک سڑک حادثہ، چار افراد ہلاک، سات شدید زخمی، وزیر اعلیٰ کا اظہار افسوس

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حادثے کی وجوہات کا جامع اور شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔پولیس نے کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سری نگر: وسطی ضلع بڈگام کے وترونی علاقے میں ہفتے کی دیر شام اس وقت سنسنی اور ماتم کا ماحول پھیل گیا جب ایک ڈمپر اور ٹاٹا سومو کے درمیان خوفناک ٹکر ہوگئی، جس کے نتیجے میں دس افراد بری طرح زخمی ہوئے، جبکہ اسپتال پہنچتے ہی چار افراد نے دم توڑ دیا۔ دیگر سات زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
جنتادل (یو) رکن اسمبلی نے ایک شخص کو تھپڑ مارا (ویڈیو)
علم و ادب کی خدمات کا اعتراف زندہ قوموں کی پہچان: جشنِ ڈاکٹر محسن جلگانوی
حضور اکرمؐ سے حضرت صدیق اکبرؓ  کی بے پناہ محبت ، تقوی و پرہیزگاری مثالی – نوجوانوں کو نمازوں کی پابندی کی تلقین :مفتی ضیاء الدین نقشبندی
مدینہ اسکولز کا سالانہ پروگرام ’’ترنگ‘‘ شاندار ثقافتی مظاہرے کے ساتھ منعقد
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب


اطلاعات کے مطابق دیر شام وترونی کے قریب ڈمپر اور سومو میں شدید ٹکر ہوئی، جس کے نتیجے میں سومو میں سوار مسافر وہیں زخمی حالت میں گر پڑے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ، پولیس ٹیمیں اور سی آر پی ایف کے اہلکار جائے واردات پر پہنچے اور ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا۔


اسپتال ذرائع نے بتایا کہ دس زخمیوں کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے چار افراد کو مردہ قرار دیا، جبکہ سات دیگر افراد کے متعدد زخم گہرے ہیں اور وہ نازک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔


نمائندے کے مطابق بڈگام کے نومنتخب ممبر اسمبلی آغا منتظر مہدی بھی فوری طور پر اسپتال پہنچے اور وہاں موجود انتظامیہ کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔


ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بڈگام حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد یقینی بنائی جائے۔


وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حادثے کی وجوہات کا جامع اور شفاف طریقے سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔پولیس نے کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔