جرائم و حادثات

دہلی کے جعلی کال سینٹروں پر چھاپہ، 21 خواتین ٹیلی کالرز گرفتار، تلنگانہ کے 22 سائبر فراڈ کیسوں سے تعلق کا انکشاف

دہلی میں مبینہ طور پر فراڈ کال سینٹروں کے ذریعے معصوم افراد کو دھوکہ دینے والے ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سائبر کرائم پولیس نے 21 خواتین ٹیلی کالرز اور ایک بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ان کال سینٹروں کا تعلق تلنگانہ میں درج 22 سائبر کرائم کیسوں سے پایا گیا ہے۔

حیدرآباد: دہلی میں مبینہ طور پر فراڈ کال سینٹروں کے ذریعے معصوم افراد کو دھوکہ دینے والے ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سائبر کرائم پولیس نے 21 خواتین ٹیلی کالرز اور ایک بینک اکاؤنٹ ہولڈر کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ان کال سینٹروں کا تعلق تلنگانہ میں درج 22 سائبر کرائم کیسوں سے پایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے للیت سنگھ، کلدیپ سنگھ اور انیل نے دہلی کے شیو مارکیٹ علاقے میں تین مبینہ جعلی کال سینٹرز قائم کیے تھے۔ یہ کال سینٹرز مبینہ طور پر بجاج فنانس کے نمائندوں کے طور پر لوگوں سے رابطہ کرتے اور پہلے سے تیار کردہ اسکرپٹ کے ذریعے مختلف بہانوں سے انہیں دھوکہ دیتے تھے۔

سائبر کرائم پولیس نے تحقیقات کے دوران ان کال سینٹروں کے ذریعے کیے جانے والے مبینہ فراڈ کا تلنگانہ میں درج 22 سائبر کرائم معاملات سے تعلق معلوم کیا۔

پولیس کے مطابق کال سینٹر چلانے والے مبینہ اہم ملزمین للیت سنگھ، کلدیپ سنگھ اور انیل فی الحال فرار ہیں، جبکہ وہاں کام کرنے والی 21 خواتین ٹیلی کالرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے ایک ایسے شخص کو بھی گرفتار کیا ہے جس کا بینک اکاؤنٹ مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا گیا۔

گرفتار خواتین کا تعلق تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے بتایا گیا ہے، جن میں جگتیال ضلع کا کورتلہ، حیدرآباد کے سعیدآباد اور بورابنڈہ، اور محبوب نگر ضلع شامل ہیں۔

پولیس کال ریکارڈز، بینک لین دین اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کر رہی ہے تاکہ اس فراڈ نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور متاثرین کا پتہ لگایا جاسکے۔

پولیس نے بتایا کہ فرار ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ تحقیقات کے دوران اس بات کا بھی پتہ لگایا جارہا ہے کہ کال سینٹروں کے ذریعے کتنے افراد کو نشانہ بنایا گیا اور مجموعی طور پر کتنی رقم کا فراڈ کیا گیا۔

مزید تفتیش جاری ہے۔