حیدرآباد: بریانی شاہ ٹیکڑی قتل کیس حل، 17 سالہ نوجوان کے قتل میں ملوث تین ملزمان گرفتار
حیدرآباد سٹی پولیس نے کلا پتھر کے بریانی شاہ ٹیکڑی میں 17 سالہ نوجوان فیض محمد عرف اذان کے بہیمانہ قتل کے سنسنی خیز مقدمے کو حل کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو سائنسی شواہد، فرانزک رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کرنے کے بعد چندرائن گٹہ کے قریب گرفتار کیا گیا۔
حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس نے کلا پتھر کے بریانی شاہ ٹیکڑی میں 17 سالہ نوجوان فیض محمد عرف اذان کے بہیمانہ قتل کے سنسنی خیز مقدمے کو حل کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو سائنسی شواہد، فرانزک رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کرنے کے بعد چندرائن گٹہ کے قریب گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 19 جولائی 2026 کی علی الصبح تقریباً ڈھائی بجے پیش آیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت محمد ابرار، محمد اسماعیل عرف فرحان اور محمد اشفاق کے طور پر ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تینوں ملزمان بریانی شاہ ٹیکڑی میں کسی دوسرے شخص کی تلاش میں آئے تھے۔ اسی دوران مقتول فیض محمد نے ان سے علاقے میں موجودگی کی وجہ دریافت کی، جس پر تلخ کلامی ہوگئی۔
پولیس کے مطابق جھگڑے کے دوران محمد ابرار اور محمد اسماعیل نے تیز دھار چاقوؤں سے فیض محمد پر یکے بعد دیگرے حملے کیے، جبکہ محمد اشفاق نے اسے مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ نوجوان شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی دم توڑ گیا، جس کے بعد تینوں ملزمان ایک ایکٹیوا اسکوٹر پر فرار ہوگئے۔
واقعے کے فوراً بعد کلا پتھر پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی۔ پولیس ٹیم نے عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے، جائے وقوع سے فرانزک شواہد اکٹھے کیے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لیا اور مختلف تکنیکی شواہد کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا۔ قابل اعتماد اطلاع ملنے پر 27 جولائی کو چندرائن گٹہ کے قریب تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
دورانِ تفتیش ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا، جس کے بعد ان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والے دو خون آلود چاقو، خون سے آلود کپڑے، ایکٹیوا اسکوٹر (رجسٹریشن نمبر AP13 AB 0101) اور تین موبائل فون برآمد کر لیے گئے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار تینوں ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود ہے اور وہ اس سے قبل بھی مختلف جرائم میں ملوث رہ چکے ہیں۔ انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
اس قتل کیس کی تفتیش انسپکٹر محمد خلیل پاشا کی سربراہی میں انجام دی گئی، جن کی معاونت سب انسپکٹر بی شیوا کمار ریڈی اور دیگر پولیس اہلکاروں نے کی۔
حیدرآباد سٹی پولیس نے کہا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سائنسی بنیادوں پر تیز رفتار تحقیقات کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں لانا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ جرائم سے متعلق کسی بھی معلومات کی فوری اطلاع دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔