جنتر منتر احتجاج کا نوجوان چہرہ عرفان کی راہول گاندھی سے ملاقات، آئین، مزدوروں کے حقوق اور فیض کی شاعری پر ہوئی خصوصی بات چیت
ملاقات کے دوران محمد عرفان نے راہول گاندھی کے سامنے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، غیر منظم شعبے کے کارکنوں اور غریب طبقات کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور روزگار تک مساوی رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے پیر کے روز محمد عرفان سے ملاقات کی، جو حالیہ جنتر منتر طلبہ تحریک کے دوران بھارتی آئین کا دیباچہ (Preamble) پرجوش انداز میں پڑھنے کے بعد ملک بھر میں توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔
راہول گاندھی نے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عرفان کی تعریف کی اور انہیں "دہلی کی ایک بستی سے تعلق رکھنے والا ایسا نوجوان قرار دیا جس کی سوچ اپنے حالات سے کہیں بلند ہے۔” انہوں نے کہا کہ عرفان کی آئین سے وابستگی، ملک کے بارے میں ان کی سوچ اور سیکھنے کا جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔
ملاقات کے دوران محمد عرفان نے راہول گاندھی کے سامنے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، غیر منظم شعبے کے کارکنوں اور غریب طبقات کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور روزگار تک مساوی رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔
اس موقع پر عرفان نے معروف انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی ایک نظم اور ہندی کے ممتاز شاعر رام دھاری سنگھ دنکر کی نظم بھی سنائی، جسے راہل گاندھی نے توجہ سے سنا۔
گفتگو کے دوران راہل گاندھی نے کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو فون کیا اور ان کی محمد عرفان اور ان کے اہلِ خانہ سے بھی بات کرائی۔
محمد عرفان حالیہ نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران اس وقت قومی سطح پر نمایاں ہوئے تھے، جب آئین کا دیباچہ پڑھتے ہوئے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے آئین، مساوات، انصاف، انسانی وقار اور نوجوانوں کے حقوق پر زور دیا تھا۔
دہلی کے ایک محنت کش خاندان سے تعلق رکھنے والے عرفان باقاعدہ اسکول نہیں جا سکے، تاہم انہوں نے کام کے ساتھ ساتھ خود مطالعہ جاری رکھا۔ ان کے قریبی افراد کے مطابق انہیں آئین، سماجی مسائل اور عوامی امور کا گہرا مطالعہ کرنے کا شوق ہے، اور وہ آئین کو صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ عام شہریوں کے وقار، مساوات اور مواقع کی ضمانت سمجھتے ہیں۔
راہول گاندھی اور محمد عرفان کی یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب نیٹ پرچہ لیک کے معاملے پر احتجاج اور سیاسی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، جبکہ اپوزیشن مسلسل مرکزی حکومت پر طلبہ کے مفادات کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہے۔