حیدرآباد

حیدرآباد: پولیس نے موڈیفائیڈ سائلنسرس کو تلف کردیا

ٹریفک پولیس نے اس مسئلہ کے حل کے لئے خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ حالیہ کارروائی میں، پولیس نے 1,910 معاملات درج کئے اور 1,000 سے زائد موڈیفائیڈ سائلنسرس کو ضبط کر کے انہیں رولر کے ذریعہ تلف کردیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں موڈیفائیڈ موٹر سائیکل سائلنسرس کی وجہ سے صوتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
حالت نشہ میں ڈرائیونگ پر 13,429 افراد پر عدالت میں مقدمہ
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

شہری علاقوں میں رہنے والوں نے شکایت کی ہے کہ نوجوان موٹر سائیکل سوار اپنی گاڑیوں میں غیر قانونی سائلنسرس نصب کر کے رات کے اوقات میں تیز آوازیں پیدا کرتے ہیں، جو بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔

ٹریفک پولیس نے اس مسئلہ کے حل کے لئے خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ حالیہ کارروائی میں، پولیس نے 1,910 معاملات درج کئے اور 1,000 سے زائد موڈیفائیڈ سائلنسرس کو ضبط کر کے انہیں رولر کے ذریعہ تلف کردیا۔

ٹریفک پولیس کے مطابق، موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 190(2) کے تحت، اگر کسی موٹر سائیکل کا سائلنسر یا پریشر ہارن 80 ڈیسیبل سے زیادہ آواز پیدا کرے تو اس پر 10,000 روپے تک جرمانہ اور چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق، مسلسل بلند آوازوں کی زد میں رہنے سے ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور بچوں میں توجہ کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس نہ صرف اہم سڑکوں پر بلکہ گلیوں اور محلوں میں بھی نگرانی بڑھائے تاکہ اس مسئلہ پر قابو پایا جا سکے۔