حیدرآبادی خاتون کا تاریخ ساز کارنامہ، دو بار کڈنی ٹرانسپلانٹ کے باوجود انٹارٹیکا کی مہم کامیاب
سنیہا کی زندگی کی کہانی کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔محض 3 سال کی عمر میں وہ گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا ہوئیں۔ 7 سال کی عمر میں ان کا پہلا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا۔ 2013 میں کالج کے آخری سال کے دوران ملیریا کی وجہ سے ان کا پہلا ٹرانسپلانٹ فیل ہو گیا جس کے بعد انہیں دوسری بار گردے کی پیوند کاری کروانی پڑی۔
حیدرآباد: حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ سنیہا بی راجو نے طبی تاریخ اور مہم جوئی کی دنیا میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے ہمت اور حوصلہ کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔
وہ دنیا کی پہلی ایسی خاتون بن گئی ہیں جنہوں نے دو بار گردوں کی پیوند کاری کے باوجود انٹارٹیکا کا مشکل ترین مہم جوئی کا سفر کامیابی سے مکمل کیا۔
یہ سفر ارجنٹائن کے شہر اوشوایا سے شروع ہوا۔ انہوں نے دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستے ڈریک پیسج کو عبور کیا۔ وہ انٹارٹیکا سرکل کو عبور کرنے، وہاں رات کے وقت کیمپ لگانے اور برفانی براعظم پر لینڈنگ کرنے میں کامیاب رہیں۔
انہوں نے بیرینٹیوس آئی لینڈ، پورٹل پوائنٹ اور ڈیٹیل آئی لینڈ جیسے مقامات پر قدم رکھ کر اپنی مہم مکمل کی۔
سنیہا کی زندگی کی کہانی کسی معجزہ سے کم نہیں ہے۔محض 3 سال کی عمر میں وہ گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا ہوئیں۔ 7 سال کی عمر میں ان کا پہلا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا۔ 2013 میں کالج کے آخری سال کے دوران ملیریا کی وجہ سے ان کا پہلا ٹرانسپلانٹ فیل ہو گیا جس کے بعد انہیں دوسری بار گردے کی پیوند کاری کروانی پڑی۔
عام طور پر ایک ٹرانسپلانٹ کے بعد لوگ تھکن اور کمزوری محسوس کرتے ہیں لیکن سنیہا نے دو ٹرانسپلانٹس کے باوجود ماؤنٹین کلائمبنگ اور ٹریکنگ جیسے مشکل مشاغل کو اپنایا۔
سنیہا اس وقت حیدرآباد میں این سی سی لمیٹڈ میں ڈپٹی ہیڈ آف کارپوریٹ کمیونیکیشن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جسمانی معذوری یا طبی مسائل آپ کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
سنیہا بی راجو کی یہ کامیابی نہ صرف ٹرانسپلانٹ کروانے والے مریضوں کے لئے بلکہ ہر اس انسان کے لیے مشعل راہ ہے جو زندگی کے چیلنجس سے ہار مان لیتا ہے۔