قانونی مشاورتی کالم

اگر بیوی خلع کا مطالبہ کررہی ہو تو اس کے مطالبہ کو تسلیم کرلینا چاہیے

آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی شادی چند ماہ پہلے ہوئی۔ اس شادی میں آپ نے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ شادی کے چند دن بعد آپ کی بیوی میکے چلی گئی۔ آپ کے والدین کے کہنے پر بھی وہ واپس نہیں آئی۔

جواب:- آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی شادی چند ماہ پہلے ہوئی۔ اس شادی میں آپ نے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ شادی کے چند دن بعد آپ کی بیوی میکے چلی گئی۔ آپ کے والدین کے کہنے پر بھی وہ واپس نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں
Love Marriage پر جھڑپ، 3 نوجوان ہلاک
کیا گری ہوئی چیز کو اٹھا کر استعمال کرسکتے ہیں ؟
یوم عاشقان کے دن محبت کی سزا۔ جانئے یہ سنسنی خیز راز
بھوک سے زیادہ کھانا
مہر کی کم سے کم مقدار

آپ نے اپنی بیوی سے ملنے کی خواہش کی لیکن آپ کو اس سے ملنے نہیں دیا گیا۔ آپ کے گھر میں جہیز کی کوئی چیز نہیں۔ آپ نے لکھا کہ وہ صرف اپنے زیورات کے ساتھ واپس میکے چلی گئی۔

اب اس کے ایڈوکیٹ کے پاس سے نوٹس آئی ہے جس میں بعض ایسی باتیں بتائی گئی ہیں جن کا اظہار اس جواب میں ممکن نہیں۔

پھر بھی آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے ایک ایڈوکیٹ صاحب سے مشورہ کیا جس پر انہوں نے رائے دی کہ بیوی کو طلبِ زوجہ کی نوٹس جاری کی جائے۔

جن باتوں کا تذکرہ آپ کی بیوی کے ایڈوکیٹ نے کیا ہے اور خلع کا مطالبہ کیا ہے‘ بالکل درست نظر آتا ہے۔ اگر آپ کے ایڈوکیٹ صاحب کی رائے آپ نے مان لی اور نوٹس جاری کردی تو یہ بات آپ کے لئے رسوائی کا باعث ہوگی۔

علاوہ ازیں آپ کے اور آپ کے والدین کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوسکتی ہے جن میں دھوکہ دہی ‘ DVC 498-A تعزیرات ہند اور دیگر ہوسکتے ہیں۔

وہ آپ سے علاحدگی چاہتی ہے۔ حالات و واقعات اور بیوی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مواد کی روشنی میں یہ بات آپ کے لئے موزوں ہوگی کہ آپ اس کے مطالبہ کو تسلیم کرلیں۔

اپنے ایڈوکیٹ صاحب کے ذریعہ جوابی نوٹس جاری کروائیے جس میں یہ بات کہی جائے کہ آپ اپنی کے مطالبۂ خلع کو تسلیم کرتے ہیں اور جو بھی کارروائی ہو وہ قاضی کے دفتر میں ہوسکتی ہے۔

اسی میں آپ کی اور آپ کی دور افتادہ بیوی کی بھلائی مضمر ہے۔ اس کے پاس کوئی وجہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ علاحدگی چاہتی ہے ۔ لہٰذا مطالبہ خلع کے تسلیم کرنے میں کوئی برائی نہیں۔ آپ اس مشور پر عمل کریں ورنہ بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔