مشرق وسطیٰ

حج وعمرہ خدمات کیلئے عارضی ورک ویزا سے متعلق اہم خبر

سعودی کابینہ کی جانب سے حج وعمرہ سیکٹر کے لیے بیرون ملک سے عارضی کارکنوں کی درآمد کے لیے ویزوں کے اجرا کے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی، جس کا بنیادی مقصدحج وعمرہ شعبے میں خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ریاض: سعودی عرب میں وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے حج وعمرہ خدمات کے لیے عارضی ورک ویزے سے متعلق ضوابط میں اپ ڈیٹس کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
چہل کی بیوی بھی سلکٹرس سے ناراض
سعودی عرب میں 3 شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی
جدہ میں گرد و غبار، مکہ میں تیز ہوائیں، بارش کا امکان
سعودی عرب میں اقامہ اور ملازمت قوانین کی خلاف ورزیوں پر 24 ہزار فیصلے
سعودی عرب، خاتون کو ہراساں کرنے پر ہندوستانی شہری گرفتار (ویڈیو)

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی عرب کی کابینہ کی جانب حج وعمرہ خدمات کیلیے عارضی ورک ویزوں کے ضوابط کی منظوری سے نجی سیکٹر کو فائدہ اور سروسز کا معیار بھی بہتر ہوگا۔

سعودی کابینہ کی جانب سے حج وعمرہ سیکٹر کے لیے بیرون ملک سے عارضی کارکنوں کی درآمد کے لیے ویزوں کے اجرا کے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی، جس کا بنیادی مقصدحج وعمرہ شعبے میں خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔

وزارت افرادی قوت کے مطابق کابینہ کی جانب سے عارضی ویزوں کے لائحہ عمل کی منظوری سے سیزنل ویزوں کے ضوابط میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ویزوں کی مدت میں بھی توسیع بھی کردی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیزنل ویزے ماہ شعبان سے جاری ہوں گے جو سال ہجری کے پہلے ماہ محرم کے آخر تک کارآمد رہیں گے۔

بڑی کمپنیوں کو یہ سہولت ملے گی کہ وہ اپنے کام کے مطابق سیزنل ویزے کی مدت میں مزید توسیع کرا سکیں گے۔ ویزے کی ابتدائی مدت 90 دن ہوگی جس میں 90 دن کی مزید توسیع کرائی جاسکتی ہے۔

سیزنل ویزوں کے اجرا کے حوالے سے ضوابط میں مزید کہا گیا کہ آجر و اجیر کے مابین ورکنگ ایگریمنٹ کیا جائے گا جبکہ کارکن کے لیے میڈیکل انشورنس فراہم کرنا ضروری ہوگا جو ویزے کے اجرا کیلیے لازمی شرط ہے۔

ویزوں کے غلط استعمال کے حوالے سے بھی سخت نگرانی کی جائے گی، جس کے تحت کسی بھی خلاف ورزی پر متعلقہ کمیٹی ایکشن لے گی۔وزارت افرادی قوت نے مزید کہا ضوابط پر عمل درآمد نئی ترمیم کے اعلان کے 180 دن بعد کیا جائے گا۔

a3w
a3w