شمال مشرق

منی پور میں 2 خواتین کو برہنہ پریڈ کرانے کا واقعہ، اجتماعی عصمت ریزی کا الزام

منی پور میں لوگوں کے ایک گروپ کی جانب سے دو خواتین کو برہنہ پریڈ کرائے جانے کا خوفناک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانہ پر شیئر کیا جارہا ہے۔ جس کی ہرطرف سے مذمت کی جارہی ہے اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

امپھال: منی پور میں لوگوں کے ایک گروپ کی جانب سے دو خواتین کو برہنہ پریڈ کرائے جانے کا خوفناک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانہ پر شیئر کیا جارہا ہے۔ جس کی ہرطرف سے مذمت کی جارہی ہے اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں
کانگریس، منی پور کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، بھارت جوڑو نیائے یاترا کا دوسرا دن
منی پور کے چوڑا چندپور میں بند، عام زندگی مفلوج
سی بی آئی کی خصوصی ٹیم منی پور پہنچ گئی
منی پور میں رخصت پر آئے فوجی کا گھر سے اغوا اور قتل
منی پور کے مسلمان 2 قبائل کے درمیان لڑائی میں پھنس گئے

ایک قبائیلی تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ دونوں خواتین کی قریبی کھیت میں اجتماعی عصمت ریزی کی گئی۔ یہ واقعہ 4 مئی کو ریاستی دارالحکومت امپھال سے تقریبا 35 کیلو میٹر دور ضلع کانگ پوکپی میں پیش آیا۔

آئی ٹی ایل ایف کے ایک بیان میں یہ بات بتائی گئی۔ اس خوفناک واقعہ سے ایک دن پہلے درج فہرست قبائیل کے موقف کا مطالبہ کرنے پر مائیتی اور کوکی قبائیل کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

آئی ٹی ایل ایف نے جو کوکی قبیلے کے نمائندہ ہے‘ اپنے بیان میں کہا کہ دونوں خواتین کا تعلق کوکی۔ زو قبیلہ سے ہے۔ آئی ٹی ایل ایف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مائتیوں کا ایک ہجوم دو کوکی۔ زو قبائیلی خواتین کو برہنہ حالت میں دھان کے کھیت کی طرف لے جارہا ہے تاکہ ان کی اجتماعی عصمت ریزی کی جاسکے۔

یہ قابل مذمت واقعہ 4 مئی کو ضلع کانگ پوکپی میں پیش آیا تھا۔ اس ویڈیو میں لوگوں کو بے بس خواتین کے ساتھ مسلسل دست درازی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جو رو رہی تھیں اور اپنے پکڑنے والوں سے بھیک مانگ رہی تھیں۔

آئی ٹی ایل ایف نے قومی کمیشن برائے خواتین اور قومی کمیشن برائے درج فہرست قبائیل سے کارروائی کرنے کی اپیل کی۔

منی پور پولیس نے ابھی تک اس معاملہ میں کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ آیا کسی کو گرفتار کیا گیا ہے یا کوئی کیس درج کیا گیا ہے۔ سیاسی قائدین اور دیگر نے سوشل میڈیا پر منی پور واقعہ پر صدمہ کا اظہار کیا ہے اور مرکز و ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس خوفناک حرکت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔