تلنگانہ

جدہ میں سرید ھربابو کا آرامکو اور الشریف گروپ سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

ریاستی وزیرصنعت ڈی سریدھر بابو پرنسپل سکریٹری جیش رنجن اور تجارت اور فروغ کے اسپیشل سکریٹری وشنو وردھن ریڈی نے جدہ میں شہزادہ محمد بن عبداللہ الرئیس کے ساتھ بات چیت کی جو سعودی عرب کی شاہ کے خصوصی دفتر کے جنرل ڈائرکٹر ہیں۔

حیدرآباد : ریاستی وزیرصنعت ڈی سریدھر بابو پرنسپل سکریٹری جیش رنجن اور تجارت اور فروغ کے اسپیشل سکریٹری وشنو وردھن ریڈی نے جدہ میں شہزادہ محمد بن عبداللہ الرئیس کے ساتھ بات چیت کی جو سعودی عرب کی شاہ کے خصوصی دفتر کے جنرل ڈائرکٹر ہیں۔

متعلقہ خبریں
ٹوئٹر پرشرمیلا اور کے ٹی آر میں لفظی جھڑپ
سعودی عرب میں لڑکی سے غیر اخلاقی حرکت پر ہندوستانی شہری گرفتار
شعبہ لائف سائنسس کیلئے50 ہزار گریجویٹس کو ہنر مند بنانے کا ہدف: سریدھر بابو
ایران سے 9 سال بعد پہلا گروپ عمرہ کیلئے روانہ
سعودی عرب میں پانچ پاکستانیوں کو سزائے موت دے دی گئی

اس ملاقات کے دوران سعودی عرب کی حکومت اور تلنگانہ کے آئی ٹی اور صنعت کے وزیر کے درمیان تحقیقاتی پالیسیوں کی وضاحت، تلنگانہ کے صنعتی شعبے میں تعاون کی گنجائش اور تلنگانہ میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

سریدھر بابو نے آرامکو گروپ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور انہوں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری اور ریاست میں یونٹس کے قیام پر تبادلہ خیال کیا۔ آرامکو کمپنی کا شمار عالمی سطح پر توانائی اور کیمیکلز کے سب سے بڑے گروپس میں کیا جاتا ہے، آرامکو کمپنی دنیا بھر میں روابط اور سپلائی چین رکھتی ہے۔

سریدھر بابو نے الشریف گروپ ہولڈنگ کے سی ای او الشریف نواف بن فیض بن عبدالحکیم اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروجیکٹس انجینئر سلیمان کے ساتھ ایک علاحدہ میٹنگ میں شرکت کی۔اس ملٹی بلین ڈالر کمپنی کو الیکٹریکل انرجی مہمان نوازی اور رئیل اسٹیٹ، صنعتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور اختراع میں کافی تجربہ ہے۔

انہوں نے معروف سرمایہ کاری کمپنی SEDCO Capitals، جدہ چیمبرز، معروف فوڈ پروڈکٹس کمپنی، ساولا گروپ کے سی ای او ولید فتانا، سعودی برادرز کمرشل کمپنی کے سی ای او اور اس کے بورڈ ممبران، پیٹرومین کارپوریشن کے نمائندوں اور بیٹریجی ہولڈنگ کمپنی کے چیئرمین مازن بٹرجی سے بھی ملاقات کی۔

سریدھر بابو نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات اور یونٹس کے قیام کے لیے کمپنیوں کو فراہم کردہ مراعات جیسے امور سے انہیں واقف کرایا۔انہوں نے ن کہا تلنگانہ میں مسلسل برقی سپلائی، مناسب پانی، معیاری انسانی وسائل، اچھا انفراسٹرکچر اور بہتر رابطہ کی سہولت موجود ہے۔

اس دوران کئی کمپنیوں نے ریاست میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ بہت سی کاروباری تنظیموں نے بھی مثبت جواب دیا۔ سریدھر بابو ڈاوس سے جدہ پہنچے، جدہ میں مقامی تارکین وطن کے اجلاس میں شرکت کی اور لوگوں سے بات چیت کی۔