مشرق وسطیٰ

ایران نے امریکہ کو سات دن میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مسٹر عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے یہاں صحافیوں سے کہا کہ ایسا ’’ضروری شرائط پوری ہونے پر‘‘ کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ شرائط جون میں دستخط کیے گئے مفاہمت نامے (ایم او یو) میں شامل تھیں۔

نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کو ایک معاہدے کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔


بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مسٹر عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے یہاں صحافیوں سے کہا کہ ایسا ’’ضروری شرائط پوری ہونے پر‘‘ کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ شرائط جون میں دستخط کیے گئے مفاہمت نامے (ایم او یو) میں شامل تھیں۔


انہوں نے کہاکہ ’’اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے،‘‘ اور ساتھ ہی بتایا کہ یہ منصوبہ قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا تھا۔


ایران کی پیشکش کے بارے میں پوچھے جانے پر ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے مثبت بات چیت ہو رہی ہے، جس میں جوہری معاملات پر بھی گفتگو شامل ہے۔ اس سے قبل اس ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’’اسلامی جمہوریہ کو تباہ کرنے‘‘ کی دھمکی دی تھی۔


امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے کیے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیج میں امریکی ٹھکانوں اور امریکہ کے عرب خلیجی اتحادیوں پر حملے کیے، ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا۔


جنگ سے پہلے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل ایل جی) اسی آبنائے سے ہو کر گزرتی تھی اور اس کے بند ہونے سے توانائی کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ آیا ہے۔


اس سے ٹرمپ پر تنازع ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ نومبر میں امریکہ میں کانگریس کے انتخابات ہونے والے ہیں۔