ایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے عالمی ادارے اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی دھمکی کوئی معمولی یا زبانی کلامی بات نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
نیویارک: اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ دی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے عالمی ادارے اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی دھمکی کوئی معمولی یا زبانی کلامی بات نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں ایرانی سفیر نے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے اراکین کی توجہ اسرائیلی وزیر جنگ اسرائیل کاٹز کے اس حالیہ عوامی بیان کی طرف مبذول کروائی، جس میں انہوں نے اعلانیہ کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو "موت کے لیے نشان زد” کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سفیر نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ دھمکی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ ایران کے اعلیٰ ریاستی حکام کو نشانہ بنانے کی ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کی ایک دانستہ اور منظم پالیسی کا حصہ ہے، جسے اسرائیلی حکومت ایران کے خلاف اپنی غیر قانونی جارحیت کے تناظر میں آگے بڑھا رہی ہے۔
دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امیر سعید ایروانی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے چند اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سب سے پہلے فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور امریکی فوجی مداخلت جیسے بنیادی اسباب کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 8 اپریل کی جامع جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کی صورت میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل پرعزم ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کی پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی ہے، اگر واشنگٹن سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے دھمکیوں کی زبان بند کر کے باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کرنی ہو گی کیونکہ ایران دباؤ میں آکر کبھی مذاکرات نہیں کرے گا۔