اسرائیلی حملوں سے جنوبی شام میں خوف و ہراس خاندان گھر بار چھوڑنے پر مجبور
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی مسلح افراد کو ہلاک کیا تاہم اس حوالے سے کوئی مقام یا ثبوت فراہم نہیں کیے گئے ہیں
دمشق : جنوبی شام کے صوبے درا میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائی کے بعد متعدد خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق مقامی افراد نے اسرائیلی فوج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں رہائشی علاقوں کے قریب گولہ باری کی گئی۔
شامی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملوں کو شام کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی جس کے بعد اسرائیلی فوج علاقے سے واپس چلی گئی، بعد ازاں پیر کی صبح حالات معمول پر آ گئے اور متاثرہ خاندان گھروں کو لوٹ آئے۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی مسلح افراد کو ہلاک کیا تاہم اس حوالے سے کوئی مقام یا ثبوت فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے جنوبی شام میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں سے ملحق علاقوں میں اسرائیلی در اندازی اور حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ شام میں زیرِ قبضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔