سازشوں کی دھول میں سچائی چھپ نہ پائے گی
ہندوستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سفر کے لیے ایک اہم سرکاری دستاویز ہے، لیکن حالیہ دنوں میں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاسپورٹ خود ہندوستانی شہریت کا قطعی ثبوت ہے؟ اس موضوع نے عوام، قانونی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں کافی بحث کو جنم دیا ہے۔عام طور پر عوام کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ موجود ہے تو وہ لازماً ہندوستانی شہری ہے۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
- چھچھورے ہندوستانی حکمرانوں بتاؤ ہند کی شہریت کا ثبوت کیا ہے؟
- Special Intensive Revisionکیلئے مہتر اور مہترانیاں تعینات۔
- سبو تاج کے اندیشے غلط نہیں۔ عوام کی بیداری ضروری۔ یہ نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔
- پاسپورٹ کی بنیاد پر الیکشن کارڈ کی تیاری۔
ہندوستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سفر کے لیے ایک اہم سرکاری دستاویز ہے، لیکن حالیہ دنوں میں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاسپورٹ خود ہندوستانی شہریت کا قطعی ثبوت ہے؟ اس موضوع نے عوام، قانونی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں کافی بحث کو جنم دیا ہے۔عام طور پر عوام کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ موجود ہے تو وہ لازماً ہندوستانی شہری ہے۔ تاہم حکومت کے مختلف سرکاری بیانات اور عدالتی مباحث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ پاسپورٹ بنیادی طورپر ایک سفری دستاویز ہے، جسے دستیاب دستاویزات کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے، اور یہ ہر صورت میں شہریت کا حتمی قانونی ثبوت نہیں ہوتا۔
اس صورتحال نے بہت سے شہریوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ جن افراد نے برسوں پہلے پاسپورٹ حاصل کیا، ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر پاسپورٹ ہی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں تو پھر عام شہری اپنی شہریت کس بنیاد پر ثابت کریں گے؟قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریت کا تعین متعلقہ قوانین، سرکاری ریکارڈ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس لیے پاسپورٹ ایک اہم سرکاری دستاویز ضرور ہے، مگر بعض قانونی معاملات میں دیگر دستاویزات بھی طلب کی جا سکتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت عوام کے سامنے واضح اور آسان زبان میں رہنمایانہ اصول پیش کرے تاکہ کسی بھی شہری میں غیر ضروری خوف یا الجھن پیدا نہ ہو۔
اگر مختلف سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت کے بارے میں مکمل وضاحت فراہم کی جائے تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔جمہوری نظام میں شفافیت، واضح قوانین اور عوامی آگاہی ہی وہ عناصر ہیں جو شہریوں اور حکومت کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتے ہیں۔ اس لیے شہریت جیسے حساس معاملے پر ابہام کے بجائے واضح معلومات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی ساری کابینہ شہریت کے ثبوت سے محروم ہے تو پھر غیر ملکیوں کو ہم ہمارے ملک کی حکومت کیسے حوالے کرسکتے ہیں۔
کیا وزیراعظم یا ان کے کابینی رفقاء شہریت کا کوئی خاص ثبوت رکھتے ہیں اگر نہیں رکھتے ہیں تو ان کو ہندوستان کی عوام پر حکومت کرنے کا حق کیسے ملتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہمارے وزراء ہندوستان کے شہری نہیں ہیں اور ہمارے عوام بھی اس ملک کے باشندے نہیں ہیں تو گویا غیر ہندوستانیوں پر غیرہندوستانی حکومت کررہے ہیں اگر ایسا ہے تو یہ بات یقینا دنیا کے آٹھویں عجوبے میں شامل ہوگی۔ بددماغی کی انتہا تو یہ ہے کہ جو محکمہ پاسپورٹ جاری کرتا ہے وہ وزارت خارجہ کا حصہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ پاسپورٹ صرف بیرونی سفر کی سہولت کے لئے دیا جاتا ہے تو وہیں ملک میں ہندوستانیوں کے لئے چناوی نظام چلانے والے الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے لئے پاسپورٹ ایک اہم دستاویز ہے۔ اگر حکومت میں خود اس طرح کا انتشار ہے تو سوچئے کہ عام ہندوستانیوں میں کس قدر بے چینی ہوگی۔
ایس آئی آر کی جاریہ مشقت کے دوران BLOکی حیثیت سے کام کرنے والے بلدیہ کے مہتر اور مہترانیاں الیکشن کے لئے درج کئے جانے والے تفصیلات کی نگرانی کرتے ہیں جبکہ پاسپورٹ ، علاقائی پاسپورٹ دفاتر کے ذریعہ جاری کیا جاتا ہے اور جس کی سربراہی انڈین فارن سروس کا عہدیدار کرتا ہے۔آپ کو پتہ ہوگا کہ پاسپورٹ کسی دکان سے خریدی جانے والی شئے نہیں ہے بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لئے کئی دستاویزات پیش کرنے ہوتے ہیں اور اس کے لئے اسپیشل برانچ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی ضروری ہے تب ہی جاکر پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔
آر ایس ایس جیسی تنظیم کی سوچ کے مطابق اس طرح کا کام کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو ڈرااور دھمکا کر رکھا جاسکے اور کسی ایک ہی شخص کی حکومت کو طوالت دی جاسکے یعنی اسے مطلق العنان بنادیا جائے جیسا کہ ہمارا مودی ہے۔ اگر یہ بات سچ نہیں ہے تو کیا بات ہے کہ اب تک مرکزی سرکار نے یہ نہیں بتایا کہ شہریت کا ثبوت کیا ہے؟ برتھ سرٹیفیکٹ ، پاسپورٹ، آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور پیان کارڈ اگر شہریت کا ثبوت نہیں ہے تو پھر کیسے ثابت کیا جائے کہ ہم ہندوستانی شہری ہیں۔ یہ ہندوستان کے 142 کروڑ عوام کی بے عزتی ہے اور بے عزتی وہ لوگ کررہے ہیں جو ہم سے ووٹ کی بھیگ مانگ کر حکومت بناتے ہیں۔ اگر اتنی گندی بات ہونے کے باوجود ہندوستان کی عوام احتجاج نہیں کرتی اور اپنا حق نہیں مانگتی تویہی کہا جاسکتا ہے کہ ہماری صنف بدل گئی ہے۔ ہمیں ایک ایسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے جو ہمارے بیچ آئے اور اس گندی سرکار کو اکھاڑ پھینکے تاکہ ملک میں پھیلا ہوا انتشار اور بدامنی جلد سے جلد ختم کی جاسکے کیونکہ ذہنی طورپر مفلوج ہونا موت سے بدتر ہے۔ ایک مشاعرہ میں کئی شعراء بیٹھے تھے اور ایک شاعر نے گرہ لگائی کہ
مہترانی سے دل لگاتے ہیں
اوراس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھی شعرا سے خواہش کی کہ اس کا مصرعہ ثانی پیش کیا جائے تو شاید مجاز نے اس طرح کا شعر اس محفل میں پیش کیا کہ
مہترانی سے دل لگاتے ہیں
وہ کماتی ہے آپ کھاتے ہیں
میں نے اس محفل کا ذکر اس لئے کیا کہ ہمارا نکما پن دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ووٹ کاٹنے کی سازشیں کرنے سے ملک کی جمہوریت زبردست حد تک کمزور ہوگئی ہے کیونکہ جو کام پڑھے لکھے ملازمین سے لیا جانا چاہئے تھا وہ کام جان بوجھ کر اَن پڑھ ملازمین سے جس میں سینکڑوں سینیٹری ورکرس شامل ہیں ،لیا جارہا ہے۔ ایک BLO سے پوچھا گیا کہ تم کس عہدہ پر کام کررہے ہو تو اس نے گھبراتے ہوئے کہا کہ میں Sweeper ہوںتو اس کے بعد اس سے یہ بھی دریافت کیا گیا کہ اس نے کتنے فارمس Fillup کروایئے تو وہ کہہ اُٹھا کہ ایک بھی نہیں۔
اس طرح کے عمل سے ایسا لگتا ہے کہ بہت سے شہریوں کو یا تو فارم نہیں ملے گا یا پھر اس کا سبو تاج ہوسکتا ہے۔ بہرحال ہم مایوس نہیں ہیں کیونکہ
سازشوں کی دھول میں سچائی چھپ نہ پائے گی
وقت آئے گا تو ہر تصویر واضح ہوجائے گی
۰۰۰ّّّّّٓٓ٭٭٭۰۰۰