مجتبیٰ خامنہ ای کو کہیں بھی ڈھونڈ کر نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی دھمکی
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت میں شامل وہ عناصر جو اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں، انہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں تلاش کر کے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں اسرائیل نے ایران کے اہم رہنما مُجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف سخت بیان جاری کیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت میں شامل وہ عناصر جو اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں، انہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں تلاش کر کے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین کے مطابق، فی الحال مُجتبیٰ خامنہ ای کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی واضح معلومات دستیاب نہیں، تاہم اسرائیل اپنے دشمنوں کا تعاقب جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی اسرائیل کے خلاف سرگرم ہوگا، وہ ان کی کارروائی سے بچ نہیں سکے گا۔
دوسری جانب ایران نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مُجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے روس منتقل ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ تمام خبریں "نفسیاتی جنگ” کا حصہ ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔
ایرانی حکام نے مزید تصدیق کی ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں ان کے بعض اعلیٰ فوجی عہدیداران ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سینئر رہنما علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ جنرل غلام رضا سلیمانی شامل ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔