مشرق وسطیٰ

اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر فلسطینیوں پر فائرنگ کی، بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت

غزہ شہر میں الرشید اسٹریٹ پر امداد کےحصول کے لیے جمع ہونے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تقریباً 112 فلسطینی جاں بحق اور ایک ہزارکے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

غزہ: غزہ شہر میں الرشید اسٹریٹ پر امداد کےحصول کے لیے جمع ہونے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تقریباً 112 فلسطینی جاں بحق اور ایک ہزارکے قریب زخمی ہوگئے تھے۔جمعرات کی صبح پیش آنے والے اس سانحے کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
رفح پر اسرائیل کا فضائی حملہ، 18فلسطینی جاں بحق
اسماعیل ہنیہ کی معاہدے سے متعلق شراط
اسرائیلی فورسس کی کارروائی، مزید 2 فلسطینی شہید
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
اسرائیلی فوج کی بمباری کے نتیجہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر معافی مانگ مانگتا ہوں: اسرائیلی صدر

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق انسانی امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں نےکہا کہ اسرائیلی فورسز نے ان پر اس وقت گولی چلا دی جب وہ اپنے اہل خانہ کے لیے امدادی سامان لینے کے لیے ٹرکوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے ہر طرف ناقابل بیان افراتفری پھیل گئی اور سڑکوں پر لاشوں اور زخموں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔

غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال سے 4 زخمیوں نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ان پرجان بوجھ کر فائرنگ کی۔ کچھ زخمیوں نےکہا کہ ان پر ٹینکوں اور ڈرونز کے ذریعے شیلنگ کی گئی۔

زخمی ہونے والے محمود احمد نے بتایا کہ وہ بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح آنے والے قافلے کا انتظار کر رہے تھے۔ بھوک کی وجہ سے میں نے اس جگہ جانے کا خطرہ مول لے لیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ اپنے بچوں کے لیے آٹا لینے کی امید میں پہنچے تھے۔

انہوں بتایا کہ جیسے ہی امدادی ٹرک شمالی غزہ میں پہنچے وہ ان کی طرف بڑھے، لیکن ایک ٹینک اور ڈرون نے ان پر حملہ کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بدھ کی شام سات بجے سے جمعرات کی صبح پانچ بجے تک امدادی ٹرکوں کے آنے تک وہیں رہے۔ ٹینکوں اور ڈرون نے فائرنگ شروع کی تو وہ بھی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کی مرہم پٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور گھنٹوں تک زخمیوں کے زخموں سے خون جاری رہا۔

جہاد محمد نے بتایاکہ وہ الرشید کوسٹل روڈ پر نابلسی گول چکر پر انتظار کر رہا تھا کیونکہ یہ جگہ شمالی غزہ تک امداد پہنچانے کا مرکزی راستہ ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے بمباری کرکے انہیں حیران کردیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ فوج نے جان بوجھ کر فائرنگ کیوں کی؟ جہاد محمد نے جواب دیا "یہ سچ ہے کہ ٹینک، سپاہی یا جہاز، وہ سب گولی چلا رہے تھے۔

سامی محمد جو اپنے بیٹے کے ساتھ الرشید روڈ پر آئے امدادی قافلے کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم الرشید لائن پر امداد کے انتظار میں تھے۔ انہوں نے لوگوں پر گولے برسانا شروع کر دیے۔”

عبداللہ جحا نے کہا کہ جب بمباری شروع ہوئی تو وہ اپنے والدین کے لیے آٹا لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں صحت کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کے واقعے میں 115 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ سب اسرائیلی فورسز کی اندھا دھند شلینگ سے مارے گئے۔حکام نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا وہ قتل عام تھا۔