آندھراپردیش

خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کا الزام کانگریس پر ڈالنے کے لیے اسمبلی اجلاس بلانا غلط: آندھرا پردیش کانگریس

آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر کولنوکونڈا شیواجی نے حال ہی میں لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن ترمیمی بل منظور نہ ہو پانے کے لیے خاص طور پر کانگریس پارٹی کو موردِ الزام ٹھہرانے کی نیت سے چندر بابو نائیڈو حکومت کی جانب سے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔

وجے واڑہ: آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر کولنوکونڈا شیواجی نے حال ہی میں لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن ترمیمی بل منظور نہ ہو پانے کے لیے خاص طور پر کانگریس پارٹی کو موردِ الزام ٹھہرانے کی نیت سے چندر بابو نائیڈو حکومت کی جانب سے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
صدرجمہوریہ کی توہین دراصل پورے ملک کی توہین کے مترادف: چندرابابو
دورہ تلنگانہ سے قبل وزیراعظم، ریاست سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں۔ کویتا کا مطالبہ
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا


مسٹر شیواجی نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کے لیے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرانے اور عوام سے کانگریس کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کرنے کے مقصد سے خصوصی اسمبلی اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔


کانگریس رہنما نے نائیڈو حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی خواتین کو ریزرویشن دینے کا معاملہ بھی شامل کیا جائے۔ ریاستی کانگریس کے نائب صدر نے خصوصی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں آؤٹر رنگ روڈ کی تعمیر کے لیے 10,000 ایکڑ سے زائد زمین کے حصول اور اس سے چھوٹے اور محدود کسانوں کو ہونے والے نقصان کے مسئلے کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔


کانگریس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مسٹر نائیڈو اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ایک قرارداد منظور کر کے اپنی سنجیدگی ظاہر کریں، جس کے تحت 2029 تک ملک بھر میں نافذ 2023 کے خواتین ریزرویشن قانون کے مطابق 543 نشستوں میں سے 33 فیصد یعنی 181 نشستیں مختص کی جائیں۔

مسٹر شیواجی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکومت ترو مالا تروپتی دیواستھانم بورڈ کے چیئرمین یا ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے پر خواتین کو مقرر کرنے میں کیوں ناکام رہی اور انہوں نے اس معاملے پر اسمبلی اجلاس میں بحث کا مطالبہ کیا۔