کے کویتا نے اپنی نئی پارٹی ’’ تلنگانہ راشٹرا سینا‘‘ کا اعلان کردیا، چیف منسٹر بننے کا عزم
یہ نام سابقہ بھارت راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کی پرانی شناخت سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ اس موقع پر کویتا نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ریاست میں ایک "نئی انقلابی تبدیلی" لانا ہے، اور انہوں نے چیف منسٹر بننے کی اپنی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے، جہاں کلواکنٹلہ کویتا نے ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز کرتے ہوئے "تلنگانہ راشٹرا سینا” کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ نام سابقہ بھارت راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کی پرانی شناخت سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ اس موقع پر کویتا نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ریاست میں ایک "نئی انقلابی تبدیلی” لانا ہے، اور انہوں نے چیف منسٹر بننے کی اپنی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
منیرآباد میں منعقدہ پارٹی کے افتتاحی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، کویتا نے خود کو ایک ہمدرد اور عوام دوست رہنما کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کیلئے "ماں” کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، جیسا کہ تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کی قیادت میں دیکھا گیا تھا۔
اپنی تقریر میں کویتا نے اپنی سیاسی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے بھارت راشٹرا سمیتی حکومت کے بعض اقدامات پر شرمندگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود حکمران خاندان کا حصہ رہ چکی ہیں، اس لیے ان پر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، تاہم تلنگانہ ریاست کے قیام کی تحریک میں اپنے کردار پر انہوں نے فخر کا اظہار بھی کیا۔
کویتا نے کہا کہ ریاست کے قیام کے بعد عوام کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق، کسان آج بھی مسائل کا شکار ہیں اور ترقی کی رفتار بھی امیدوں کے مطابق نہیں رہی۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست میں نگرانی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا، جہاں لوگوں کو اپنے فون تک ٹریک ہونے کا خوف لاحق تھا۔
اپنے والد اور سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر تنقید کرتے ہوئے، کویتا نے کہا کہ وہ وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں اور عوام سے ان کا جذباتی تعلق کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اقتدار میں آنے کے بعد وہ عوامی مسائل سے دور ہو گئے ہیں۔
ساتھ ہی، کویتا نے موجودہ وزیر اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی اور کانگریس حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت کو "سخت اور بے رحم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور کئی مواقع پر انتظامیہ ناکام نظر آئی ہے۔
کویتا نے بی جے پی، کانگریس اور بی آر ایس تینوں بڑی جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان کی نئی پارٹی ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آئے گی، اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
اپنے منشور کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے پانچ بڑے وعدے کیے۔ تعلیم کو مکمل طور پر مفت کرنے، صحت کے شعبے میں ہر شہری کو مفت علاج فراہم کرنے، کسانوں کیلئے سہولیات بڑھانے اور بجلی کی بہتر فراہمی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا۔
روزگار کے حوالے سے کویتا نے اعلان کیا کہ اقتدار میں آنے کے پہلے سال میں چار لاکھ نوکریاں فراہم کی جائیں گی، جبکہ تلنگانہ تحریک کے کارکنوں کیلئے ایک لاکھ خصوصی نوکریاں دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ سماجی انصاف کے تحت ایس سی، ایس ٹی، اقلیتوں اور خواتین کیلئے خصوصی اسکیمیں متعارف کرانے کا وعدہ بھی کیا گیا۔
جلسے کے دوران حامیوں کی بڑی تعداد نے "سی ایم، سی ایم” کے نعرے لگائے، جو کویتا کی بڑھتی ہوئی سیاسی مقبولیت کی نشاندہی کر رہے تھے۔