سوشیل میڈیا

اس سال کا پہلا مکمل سورج گرہن اگست کی اِس تاریخ کو دکھائی دے گا، جانئے ہندوستان میں نظر آئے گا یا نہیں؟

دنیا کے تقریباً 55 ممالک میں یہ گرہن کسی نہ کسی شکل میں دکھائی دے گا، تاہم مکمل سورج گرہن کا نظارہ صرف اسپین اور آئس لینڈ کے بعض علاقوں میں کیا جا سکے گا، جبکہ دیگر کئی ممالک میں صرف جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔

حیدرآباد: بارہ اگست  کوسال 2026 کا پہلا مکمل سورج گرہن رونما ہونے جا رہا ہے۔ یہ ایک نایاب فلکیاتی واقعہ ہوگا، جس پر دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اور آسمان کا مشاہدہ کرنے والے افراد کی نظریں مرکوز ہیں۔

تاہم ہندوستان میں رہنے والے افراد اس سورج گرہن کو براہِ راست نہیں دیکھ سکیں گے، کیونکہ یہ گرہن ملک کے کسی بھی حصے میں نظر نہیں آئے گا۔

دنیا کے تقریباً 55 ممالک میں یہ گرہن کسی نہ کسی شکل میں دکھائی دے گا، تاہم مکمل سورج گرہن کا نظارہ صرف اسپین اور آئس لینڈ کے بعض علاقوں میں کیا جا سکے گا، جبکہ دیگر کئی ممالک میں صرف جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔

اس سورج گرہن کا راستہ گرین لینڈ، بحرِ اوقیانوس اور شمالی روس کے علاقوں سے گزرے گا۔ اس کے علاوہ شمالی امریکہ کے بعض حصوں، کینیڈا، یورپ کے متعدد ممالک اور شمال مغربی افریقہ میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔ اسپین کے لیے یہ فلکیاتی واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہاں ایک صدی سے زائد عرصے کے بعد مکمل سورج گرہن دکھائی دے گا۔ اسپین میں آخری مرتبہ مکمل سورج گرہن 18 جولائی 1860 کو دیکھا گیا تھا۔

ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق سورج گرہن کا جزوی مرحلہ تقریباً شام سات بجے شروع ہوگا، جبکہ مکمل گرہن کا آغاز رات تقریباً سوا نو بجے ہوگا۔ رات تقریباً 11 بج کر 17 منٹ پر گرہن اپنے عروج پر پہنچے گا۔ مکمل گرہن کا مرحلہ رات تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر ختم ہوگا، جبکہ گرہن کا مکمل عمل تقریباً صبح ساڑھے تین بجے اختتام پذیر ہوگا۔

مکمل سورج گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آکر سورج کے روشن حصے کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ اس دوران گرہن کے راستے میں آنے والے بعض علاقوں میں دن کے وقت چند لمحوں کے لیے غیر معمولی تاریکی چھا جاتی ہے۔

 اس موقع پر سورج کی بیرونی فضا، جسے کورونا کہا جاتا ہے، بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ماہرینِ فلکیات اس نایاب موقع سے کورونا کی ساخت، شمسی ہواؤں، سورج کے مقناطیسی میدان اور دیگر سائنسی مظاہر کا مشاہدہ اور مطالعہ کرتے ہیں۔

اس گرہن کی ایک اور دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ یورپ کے بعض علاقوں میں جزوی سورج گرہن کے دوران ہی سورج غروب ہوجائے گا۔ اس طرح وہاں غروبِ آفتاب کے وقت گرہن کا ایک منفرد منظر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

چونکہ یہ سورج گرہن ہندوستا میں کسی بھی مقام پر نظر نہیں آئے گا، اس لیے مذہبی روایات کے مطابق بھی اس کے اثرات کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے والے افراد کے لیے آنکھوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج کو براہِ راست ننگی آنکھ سے دیکھنے سے آنکھوں کو شدید اور مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 گرہن دیکھنے کے لیے صرف مقررہ معیار کے خصوصی شمسی چشموں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ عام سیاہ چشمے، ایکسرے فلم، رنگین شیشے یا پانی میں سورج کا عکس دیکھنے جیسے طریقے محفوظ نہیں ہیں۔

اسی طرح دوربین، دوچشمی دوربین یا کیمرے کے ذریعے بھی خصوصی شمسی فلٹر کے بغیر سورج کو دیکھنا خطرناک ہوسکتا ہے اور بینائی کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔

12 اگست کا یہ مکمل سورج گرہن بلاشبہ ایک نایاب اور شاندار فلکیاتی واقعہ ہوگا، تاہم بھارت میں رہنے والے افراد اسے براہِ راست نہیں دیکھ سکیں گے۔ ایسے میں عوام کو گرہن سے متعلق افواہوں اور غیر ضروری خوف سے بچنے اور سائنسی معلومات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ مذہبی عقائد رکھنے والے افراد اپنی روایات کے مطابق دعا، ذکر، عبادت، خیرات اور آباؤ اجداد کی یاد جیسے نیک اعمال انجام دے سکتے ہیں۔