چیف جسٹس کی دعوت بنی تنازعہ، حیدرآباد نلسار لاء یونیورسٹی کے 450 طلبہ نے مخالفت میں خط لکھ دیا
تاہم دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جلسۂ تقسیمِ اسناد کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ اس پورے معاملے پر نلسار لاء یونیورسٹی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد کی معروف نلسار لاء یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیمِ اسناد کے حوالے سے تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ یونیورسٹی نے تقریب میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا ہے، تاہم یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک بڑے گروپ نے اس دعوت کی مخالفت کرتے ہوئے وائس چانسلر کو خط لکھ دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریب میں 2026 میں قانون کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کو اسناد فراہم کی جانی تھیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے چیف جسٹس سوریا کانت کو گزشتہ ماہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، لیکن تقریب میں ان کی شرکت پر طلبہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔
طلبہ کی جانب سے دی گئی درخواست پر تقریباً 450 طلبہ نے دستخط کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں طلبہ سے متعلق بعض معاملات میں سپریم کورٹ میں دائر مقدمات کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے طرزِ عمل پر انہیں تحفظات ہیں۔
طلبہ نے خاص طور پر 20 جولائی کو دہلی میں ہونے والے ایک احتجاج کا حوالہ دیا ہے، جس کے دوران متعدد طلبہ کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان واقعات سے متعلق مقدمات سپریم کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہیں۔ طلبہ کا الزام ہے کہ ان معاملات میں ان کے مؤقف کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
اسی وجہ سے طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس کو جلسۂ تقسیمِ اسناد میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے۔ طلبہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ چیف جسٹس کے ہاتھوں اپنی اسناد وصول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
450 طلبہ کے دستخط سے وائس چانسلر کو بھیجے گئے خط میں طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اس معاملے پر براہِ راست بات چیت کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تحفظات یونیورسٹی کے ذمہ داران کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق طلبہ کی مخالفت کے بعد جلسۂ تقسیمِ اسناد کو ملتوی کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر چیف جسٹس تقریب میں شرکت کرتے ہیں تو احتجاج یا کسی ناخوشگوار صورتحال کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
تاہم دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جلسۂ تقسیمِ اسناد کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ اس پورے معاملے پر نلسار لاء یونیورسٹی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یوں چیف جسٹس کو جلسۂ تقسیمِ اسناد میں مدعو کرنے کا معاملہ اب طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان ایک اہم تنازع بن گیا ہے، جبکہ سب کی نظریں یونیورسٹی کے آئندہ فیصلے پر ہیں۔