مشرق وسطیٰ

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکہ کے سامنے دوٹوک مؤقف

 ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری ایک بیان میں محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ ’’جب تک امریکہ اپنے رویے میں اصلاح نہیں لاتا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔‘‘

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے متعدد شرائط پیش کی ہیں۔ اس پیش رفت سے اس اہم اور اسٹریٹجک بحری راستے پر جاری مذاکرات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ اس سمندری راستے کو دوبارہ کھولنے سے قبل امریکہ کو اپنے معاندانہ رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

 ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری ایک بیان میں محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ ’’جب تک امریکہ اپنے رویے میں اصلاح نہیں لاتا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔‘‘

ایران کے اہم مطالبات میں امریکی بحری ناکابندی کا خاتمہ، امریکی فوجی دستوں کا انخلا، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور پابندیوں کا ختم کرنا شامل ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بغیر کسی شرط کی منتقلی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ذوالقدر نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران کو دھمکیاں دینے اور ملک کے مقدس مقامات کے بارے میں توہین آمیز بیانات دینے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ مطالبات کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایرانی عوام کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

 "یہ ایرانی عوام کے مطالبات ہیں، جن کا اظہار انہوں نے 160 دنوں تک میدانوں اور سڑکوں پر ڈٹے رہ کر بھرپور انداز میں کیا ہے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے حکام آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ترتیبات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سمندری راستہ دنیا کے اہم ترین توانائی کی راہداریوں میں سے ایک ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اس راستے کی نقل و حمل سے متعلق عمان کے ساتھ ایک معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا کچھ اضافی شرائط پر منحصر ہوگا، جن میں جون میں طے پانے والے سمجھوتے کی خلاف ورزی پر امریکہ کی جانب سے اصلاحی اقدامات کرنا بھی شامل ہے۔

عمان کی وزارتِ خارجہ نے ان مذاکرات کو "مثبت اور تعمیری” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ اور ایران کی طرف سے ان بات چیت کے حوالے سے مختلف اشارے مل رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکام نے امریکہ کو بتایا ہے کہ ان کا اس سمندری راستے کو بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارےآئی آر آئی بی کے مطابق، ارکانِ پارلیمنٹ نے عمان کے ساتھ مجوزہ فریم ورک پر بڑے پیمانے پر اتفاق کیا ہے، تاہم حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

آبنائے ہرمز موجودہ بحران میں ایران کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اور سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی بحری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس کی طویل بندش کے اثرات خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اپنے مؤقف پر عسکری اور سفارتی، دونوں سطحوں پر ثابت قدم رہے گی۔