دہلی

ایل پی جی سے پی این جی منتقلی، ریاستوں کو مرکز کی ہدایت

مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ایل پی جی کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی تھی، کیونکہ بھارت کی تقریباً 50 فیصد ایل پی جی درآمدات اسی راستے سے گزرتی تھیں۔

نئی دہلی : مرکزی حکومت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا ہے کہ وہ گھریلو کچن میں ایل پی جی سے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) پر منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ضلعی سطح پر انتظامی تعاون فراہم کریں۔ حکومت کے مطابق پی این جی نسبتاً محفوظ کھانا پکانے کا ایندھن ہے اور اس سے تیل کمپنیوں پر ایل پی جی کی ترسیل کا بوجھ بھی کم ہوگا۔

پیٹرولیم سکریٹری نیرج متل نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو خط لکھ کر ضلعی سطح پر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ جہاں پائپڈ گیس کی سہولت دستیاب ہے، وہاں ایسے ضابطہ کار کو نافذ کرنے میں مدد کی جائے جس کے تحت گھرانوں کے پاس بیک وقت ایل پی جی اور پی این جی دونوں کنکشن برقرار نہ رہیں۔

پیٹرولیم سکریٹری نے اپنے خط میں کہا کہ پی این جی زیادہ محفوظ، صاف ستھرا اور مؤثر کھانا پکانے کا ایندھن ہے اور ملک کے توانائی منتقلی کے اہداف کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پی این جی کے تیز رفتار استعمال سے ایل پی جی کی تقسیم سے متعلق لاجسٹک بوجھ کم ہوگا، صارفین کو سہولت ملے گی اور بڑے پیمانے پر کی گئی سرکاری و نجی سرمایہ کاری سے تیار کیے گئے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔

حکومت پہلے ہی صارفین کو پی این جی پر منتقل ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ایل پی جی کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی تھی، کیونکہ بھارت کی تقریباً 50 فیصد ایل پی جی درآمدات اسی راستے سے گزرتی تھیں۔

حکومت نے ایل پی جی (سپلائی اور ڈسٹری بیوشن کے ضابطے) ترمیمی حکم، 2026 بھی جاری کیا ہے، جس کا مقصد پی این جی کنکشن اختیار کرنے والے گھریلو ایل پی جی صارفین کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔

مغربی ایشیا کے بحران کے دوران تقریباً 7.99 لاکھ پی این جی کنکشنز کو گیس فراہم کی گئی جبکہ مزید 2.87 لاکھ کنکشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 10.86 لاکھ کنکشنز کے لیے سہولت پیدا کی گئی۔

وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے مجاز سٹی گیس ڈسٹری بیوشن اداروں اور سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ ہر جغرافیائی علاقے میں پی این جی کوآرڈینیشن کمیٹی (PCC) قائم کی جائے۔

یہ کمیٹیاں اہل ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور گھروں کی نشاندہی کریں گی، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز (RWAs) اور انفرادی صارفین کو قانونی نوٹس جاری کریں گی اور پی این جی کنکشنز میں تیزی لانے کے لیے آگاہی کیمپ منعقد کریں گی۔

وزارت کے مطابق پی سی سی کا نظام پہلے ہی کام کر رہا ہے، تاہم اب تک کے تجربے سے ظاہر ہوا ہے کہ مقررہ مدت میں ایل پی جی سے پی این جی منتقلی کو مکمل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کا تعاون انتہائی اہم ہے۔

ضلعی انتظامیہ سے توقع کی گئی ہے کہ وہ RWAs اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے راستہ یا استعمال کا حق حاصل کرنے، ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز اور سی جی ڈی اداروں کے درمیان منتقلی کے عمل، صارفین کی آگاہی اور تصدیق میں مدد کرے گی اور صارفین کی شکایات کے ازالے میں تعاون فراہم کرے گی۔

اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو ان علاقوں میں پی این جی کے استعمال کی نگرانی بھی کرنی ہوگی جہاں اسے نافذ کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر غیر عوامی علاقوں میں داخلے سے انکار کی صورت میں متعلقہ افسران کو کنٹرول آرڈرز کے تحت اختیارات استعمال کرنے میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

وزارت نے کہا کہ محکمہ خوراک و شہری رسد (Food and Civil Supplies) کے افسران اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں، کیونکہ ان کا ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ پہلے سے انتظامی رابطہ اور زمینی سطح پر وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔

مرکزی حکومت نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ سپلائی آفیسر سے کم رینک کے نہ ہونے والے ایک نوڈل افسر کو نامزد کریں، جو مقامی پی این جی کوآرڈینیشن کمیٹی کے ساتھ باضابطہ طور پر منسلک ہوگا۔

وزارت نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیح دیں اور مقررہ مدت کے اندر گھریلو صارفین کو پی این جی پر منتقل کرنے کے حکومت کے عزم کو عملی جامہ پہنانے میں تعاون کریں۔