مہاراشٹرا

کے سی آر کا ناندیڑ میں جلسہ سے خطاب

کے سی آر نے کہاکہ ملک کے ایک شہری کے طور پر وہ کہیں بھی جاسکتے ہیں اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ چندرشیکھرراو نے کہا کہ مہاراشٹر میں کسان اور دلت کئی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں دلت بندھو اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔

ناندیڑ(مہاراشٹر): تلنگانہ کے چیف منسٹر چندرشیکھرراو نے کہا ہے کہ جلد ہی ملک میں کسانوں کا طوفان آئے گا اور اس طوفان کو کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔

متعلقہ خبریں
بی جے پی سے ہی تلنگانہ کی ترقی ممکن:وجئے شانتی
میں بلیوں کونہیں بلکہ شیروں کونشانہ بناؤں گا۔چیف منسٹر کے تبصرہ کے بعد بی آر ایس کیڈرمیں ہلچل
انتخابی ضابطہ اخلاق لاگوہونے سے قبل کسانوں کے مطالبات قبول کرلئے جائیں: جگجیت سنگھ
کنگنا کی کوئی تعلیمی لیاقت نہیں: گل
جمعہ کی نماز اسلام کی اجتماعیت کا عظیم الشان اظہار ہے: مولانا حافظ پیر شبیر احمد

 ملک کی سیاست میں معیاری تبدیلی اور قومی سیاست میں سرگرم رول کے لئے تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس کی بی آر ایس میں تبدیلی کے بعد پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے ناندیڑ میں دوسرے جلسہ جس کے ذریعہ انہوں نے اب کی بار کسان کی سرکار کا نعرہ دیا، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کی جارہی ہے، رعیتو بیمہ اور رعیتو بندھو اسکیم پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں کسانوں کی مکمل فصل کو حکومت خریدرہی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹرا کے نائب وزیراعلی دیویندرفڈنویس کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے چندرشیکھرراو کی مہاراشٹر آمد پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب مہاراشٹر میں تلنگانہ کی طرح کسانوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور تلنگانہ کی طرز پر ترقی دی جائے گی اس وقت وہ مہاراشٹر نہیں آئیں گے۔

 ملک کے ایک شہری کے طور پر وہ کہیں بھی جاسکتے ہیں اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ چندرشیکھرراو نے کہا کہ مہاراشٹر میں کسان اور دلت کئی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں دلت بندھو اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں پانی کی کمی نہیں ہے،پراجکٹس کا پانی خلیج بنگال میں جارہا ہے لیکن اس پانی کا استعمال ریاست کے کسانوں کی فصلوں کے لئے نہیں کیا جارہا ہے۔ ملک میں آبی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ کیا ہمیں کسانوں کو ان کی فصل کے لئے پانی چین، امریکہ سے بھیک مانگنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے 75 برس بعد بھی مہاراشٹر میں کسانو ں کو ان پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، انہوں نے پوچھا کہ کیا کئی برسوں تک حکومتکرنے والی کانگریس اور بی جے پی نے کسانوں کی حالت میں تبدیلی لائی ہے۔

ملک میں قدرتی آبی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ 40 ہزارٹی ایم سی پانی ہر سال سمندر میں ضائع ہورہا ہے۔ اس کا استعمال کرتے ہوئے یہاں کی فصلوں کو سیراب کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ کرشنا، گوداوری جیسا دریائیں مہاراشٹر سے نکلتی ہیں لیکن اس کے پانی سے مہاراشٹر کے کسان محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں ان کی پارٹی کا یہ دوسرا بڑا جلسہ ہے۔ یہاں کے عوام کی محبت کی وجہ سے یہ جلسہ کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں فی ایکر کاشت کے لئے حکومت کی جانب سے 10 ہزار روپے فراہم کئے جارہے ہیں۔

 انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے کئی مقامات پر پینے کے لئے پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ کئی حکمران آئے اور چلے گئے لیکن عوام کے طرززندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی زراعت کے لئے سہولتیں فراہم کی گئیں۔

a3w
a3w